خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 56 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 56

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۶ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب پروفیسر میرے سامنے آجائے۔دنیا کا کوئی سائنسدان میرے سامنے آ جائے اور وہ اپنے علوم کے ذریعہ قرآن کریم پر حملہ کر کے دیکھ لے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُسے ایسا جواب دے سکتا ہوں کہ دنیا تسلیم کرے گی کہ اس کے اعتراض کا رڈ ہو گیا اور میں دعویٰ کرتا ہوں کہ میں خدا کے کلام سے ہی اس کو جواب دوں گا اور قرآن کریم کی آیات کے ذریعہ سے ہی اس کے اعتراضات کو رد کر کے دکھا دوں گا۔“ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں۔انوار العلوم جلد نمبر ۷ اصفحہ ۲۲۷) دسمبر ۱۹۴۴ء میں فرمایا :۔ایسا انسان جس کی صحت کبھی ایک دن بھی اچھی نہیں ہوئی اس انسان کو خدا نے زندہ رکھا اور اس لئے زندہ رکھا کہ اس کے ذریعہ اپنی پیشگوئیوں کو پورا کرے اور اسلام اور احمدیت کی صداقت کا ثبوت لوگوں کے سامنے مہیا کرے۔پھر میں وہ شخص تھا جسے علوم ظاہری میں سے کوئی علم حاصل نہیں تھا مگر خدا نے اپنے فضل سے فرشتوں کو میری تعلیم کے لئے بھجوایا اور مجھے قرآن کے ان مطالب سے آگاہ فرمایا جو کسی انسان کے واہمہ اور گمان میں بھی نہیں آسکتے تھے۔وہ علم جو خدا نے مجھے عطا فرمایاوہ چشمہ روحانی جو میرے سینے میں پھوٹا وہ خیالی یا قیاسی نہیں ہے۔بلکہ ایسا قطعی اور یقینی ہے کہ میں دنیا کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر اس دنیا کے پردہ پر کوئی شخص ایسا ہے جو یہ دعوی کرتا ہو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اُسے قرآن سکھایا گیا ہے تو میں ہر وقت اس سے مقابلہ کے لئے تیار ہوں لیکن میں جانتا ہوں آج دنیا کے پردہ پر سوائے میرے اور کوئی شخص نہیں جسے خدا کی طرف سے قرآن کریم کا علم عطا فرمایا گیا ہو۔خدا نے مجھے علیم قرآن بخشا ہے اور اس زمانہ میں اس نے قرآن سکھانے کے لئے مجھے دنیا کا استاد مقرر کیا ہے خدا نے مجھے اس غرض کے لئے کھڑا کیا ہے کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں اور اسلام کے مقابلہ میں دنیا کے تمام باطل ادیان کو ہمیشہ کی شکست دے دوں۔دنیا زور لگا لے وہ اپنی تمام طاقتوں اور جمعیتوں کو اکٹھا کر لے عیسائی بادشاہ بھی اور ان کی حکومتیں بھی مل جائیں۔یورپ بھی اور امریکہ بھی اکٹھا ہو جائے دنیا کی تمام بڑی بڑی مال دار اور طاقتور قو میں اکٹھی ہو جائیں اور