خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 644
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۴۴ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطار جماعت کے آرام کی خاطر لنگر خانہ میں ایک کنواں لگانے کی ضرورت پیش آئی۔اس لئے پیش نہیں آئی کہ وہاں کوئی کنواں پہلے سے موجود نہیں تھا۔بلکہ اس لئے پیش آئی کہ وہ کنواں مشترک ملکیت میں تھا۔آپ بھی خاندان کے فرد کے لحاظ سے اور آپ کے مخالف رشتہ دار اس کے دوسرے حصہ کے مالک تھے اور وہ ہر وقت فتنہ اور فساد پیدا کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے تب آپ نے سوچا کہ اس ہر وقت کی بدمزگی سے بچنے کے لئے ایک کنواں لگا دیا جائے۔ستا زمانہ تھا اڑھائی سوروپے میں کنواں لگ جاتا تھا۔اڑھائی سو روپے میں کنواں لگانا تھا۔آپ نے چندہ کی تحریک کی جن کو تحریک کی ان میں سے ایک ہمارے نانا خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم بھی تھے اور آپ نے ان کو خط لکھا اور خط میں لکھا یہ حالات ہیں ہمارے اپنے رشتہ دار تنگ کرتے ہیں۔لنگر خانے میں ہمارے احمدی ہمارے مخلص مرید جو ہیں وہ پہلے سے زیادہ آنے لگے ہیں اور بدمزگیاں پیدا ہوئی ہیں ہم نے سوچا ہے کہ اس بدمزگی سے نجات حاصل کرنے کے لئے ہم یہاں ایک کنواں لگا دیتے ہیں اڑھائی سوروپے اس پر خرچ آئیں گے آپ کا نام بھی میں نے اس غرض کے لئے چندہ دینے والوں میں شامل کر دیا اور جو میں نے چندہ آپ کے ذمہ لگایا ہے اس کے مطابق آپ مجھے رقم کی دیں اور میں نے آپ کے نام کے آگے دو آنے لکھ دیئے ہیں مجھے دو آنے بھجوا دیں۔ابتداء آپ کی قربانیوں کی دو آنے سے ہوئی تھی اور ابھی آپ کے ابتدائی دور کا ہی ایک زمانہ ہے ( دوسرا دور آنے والا ہے آپ کے سامنے اس کے متعلق میں کل کچھ کہوں گا ) اور ابتدائی دور کے ہی ایک اگلے حصہ میں آپ یہاں پہنچ گئے کہ میں آپ سے ۲۵ لاکھ روپے کا مطالبہ کرتا؟ ہوں اور آپ ۵۱ لاکھ روپے جماعت کے کاموں کے لئے دے دیتے ہیں۔یہ ایک چھوٹی سی بات ہے اور آپ یہاں پہنچ گئے کہ کنواں لگانے کے لئے ساری جماعت کی طرف سے دیئے گئے دوسو پچاس روپے کے مقابلے میں جس طرح کنواں ایک چھوٹی سی جماعتی ضرورت تھی نصرت جہاں آگے بڑھوا بھی ایک چھوٹی سی جماعتی ضرورت تھی اس کے لئے دوسو پچاس کے مقابلہ میں آپ نے اکیاون لاکھ روپیہ دیا اور ایک سال میں اب ایک کروڑ ارسٹھ لاکھ روپیہ وہی جماعت دو آنے دینے والی وہ خدا کے حضور میں پیش کرتی ہے۔کتنی رحمت اور کتنا فضل آپ پر اللہ تعالیٰ کا ہے۔آپ کے اور ہمارے دل خدا تعالیٰ کی حمد سے ہمیشہ معمور رہنے چاہئیں۔