خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 630
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۳۰ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطاب -------- کارکنان کی امداد پر چھتیس ہزار ایک سو تہتر روپے خرچ کئے اور اس کے علاوہ ہم یہاں امداد دینے ہیں جو ہمارے ادارے گندم کی سالا نہ ضرورت کا ۱/۴ حصہ مفت اپنے کارکنان کو دیتے ہیں۔ہم نے حساب کیا ہے فی کس ۱/۲ سیر روزانہ کے حساب سے ساڑھے چارمن فی کس گندم سالانہ چاہئے تو جس کنبہ کے دس افراد کھانے والے ہیں اُس کو سال کی پنتالیس من گندم چاہئے۔اس کا چوتھا حصہ یعنی سوا گیارہ من یہ مفت دی جاتی ہے اور باقی کے لئے قرض دیا جاتا ہے تاکہ سارا سال انہیں تکلیف نہ ہو۔بہر حال جو یہ مفت والا حصہ ہے۔اس پر صدرا مجمن احمد یہ خرچ کرتی ہے اور جو ایسے خاندان ہیں جو ایک حد تک اپنی غذائی ضرورتیں پوری کر سکتے ہیں ساری نہیں کر سکتے اُن کی فہرستیں بنوا کر اور محلوں سے مشورہ کرنے کے بعد اُن کو بھی زیادہ تر یہاں کے لوگوں کو اور کچھ ربوہ سے باہر کے لوگوں کو بھی گندم اور آٹے کے لحاظ سے جتنی ضرورت وہ پوری نہ کر سکیں اتنی کی انہیں امداد دے دی جاتی ہے۔اس سکیم کے ماتحت چار سونو مختلف خاندانوں میں دو ہزار دوسو پنتیس من گندم تقسیم کی گئی۔اس دفعہ ایک ہنگامی ضرورت پڑی۔سیلاب آیا۔ربوہ میں اتنی ضرورت نہیں پڑی کم پڑی ہے لیکن باہر بعض جگہ تو گاؤں کے گاؤں پانی میں گھر گئے تھے۔وہاں جو ضرورت پوری کی گئی ہے اصل میں وہ اس عظیم جذبہ کے ذریعہ ہوئی ہے جو جماعت احمدیہ کے افراد کے دلوں میں موجزن ہے کہ رکسی کو ہم نے دُکھ میں نہیں دیکھنا۔جہاں ہمیں دُکھ اور پریشانی نظر آئے گی اپنی بساط کے مطابق ہم اُس دُکھ اور پریشانی کو دور کرنے کی انتہائی کوشش کریں گے۔چنانچہ بیسیوں گاؤں جو سیلاب میں گھرے ہوئے تھے اُن تک ہمارے بعض نوجوان چون چون میل سائیکل پر سوار ہو کر اور کبھی سائیکل کو اپنے اُوپر اُٹھا کر وہاں پہنچے ہیں اور دو دو تین تین دن تک کھانا وہاں پہنچاتے رہے۔پھر اس کے بعد اُن کا دوسرا انتظام ہو گیا۔پانی خشک ہو گیا یا کم ہو گیا۔کوئی وہاں جانے کے لئے تیار نہیں تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعد میں فوج آئی ہے تو اس نے بڑا اچھا کام کیا ہے لیکن شروع میں تو انتظام ہی کوئی نہیں تھا۔یہ جو سارا خرچ ہوا دوائیاں کپڑے، گھی ، دودھ چاول آٹا تھا وغیرہ وغیرہ ساری تفصیل تو میرے پاس رپورٹ میں تھی لیکن وہ میں نے چھوڑ دی اور ان سب چیزوں پر جماعت کے دولاکھ چوہتر ہزار نو سو بیس روپے خرچ ہوئے اور کسی پر احسان نہیں بلکہ ہم سمجھتے ہیں ، آپ بھی اور میں بھی کہ