خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 626
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۲۶ ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطاب لئے اسراف کر جائیں گے۔حالانکہ ہم دولت مند ضرور ہیں لیکن ہم پیسے والے نہیں ہیں۔ہم پیسے والے اس لئے نہیں کہ پیسے کے لحاظ سے دُنیا میں ہم غریب جماعت ہیں لیکن ہم دولت مند ہیں! ہمارے دل اس دولت کے نتیجہ میں خدا کی حمد سے لبریز ہیں۔ہم اس لئے دولت مند ہیں کہ ہمارے پیسے میں اللہ تعالیٰ نے برکت بڑی ڈالی ہے۔جس کام پر دنیا والوں کے دس روپے خرچ ہوتے ہیں۔اُس کام پر بعض دفعہ ہماری اٹھنی بھی خرچ نہیں ہوتی۔چونی میں وہ کام ہو جاتا ہے۔مثلاً اس دفعہ برکت دیکھو آپ کو جو خدا تعالیٰ نے ایک زندگی اور ایک رُوح دی ہے وہ ہمارے لئے برکت کا باعث بن جاتی ہے۔اس مرتبہ سیلاب کی وجہ سے اور کچھ موسم کے حالات کی وجہ سے میرا یہ خیال تھا کہ ہم قریباً ہر سال ایک سویا سوا سولحاف بنا کر تقسیم کرتے تھے اور ربوہ میں رہنے والوں میں سے بعض ایسے بھی قربانی دیتے ہیں کہ ایک گھرانے میں میاں بھی اور بیوی بھی کمانے والے تھے تو انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی لحاف کی ضرورت ہے اور میری طبیعت میں انقباض پیدا ہوا۔لیکن جب میں نے پتہ کیا تو وہ گھر ماشاء اللہ بچوں کی برکت سے بھرا ہوا ہے اور دس بارہ افراد سونے والے ہیں تو مجھے پتہ لگا کہ وہ گھر والے تین تین بچوں کو لٹا کر ایک ہی رضائی اُن کے اُوپر ڈالتے تھے۔تو مجھے شرمندگی ہوئی اور میں نے اُن کے لئے جس حد تک ممکن تھا انتظام بھی کیا لیکن میں برکت کی مثال آپ کو دے رہا ہوں تو اس مرتبہ میں نے اپنے دفتر سے پوچھا کہ سرد لحافوں پر کتنا خرچ آئے گا۔انہوں نے کہا چار ہزار چار سو روپے۔مجھے محسوس ہوا کہ یہ زیادہ ہے۔میں نے کہا پچھلے سال کیا خرچ آیا تھا۔کہنے لگے بائیں تمھیں سو روپے میں نے کہا یہ فرق کیوں ہے؟ کہنے لگے کہ روئی کی قیمت (اب زمیندار بڑا امیر ہو گیا ہے نا !!) دوروپے سیر سے چھ روپے سیر تک پہنچ گئی ہے۔کپڑا پچھلے سال تین روپے گز تھا اب چھ روپے گز ہو گیا ہے۔قیمتیں دوگنی ہوگئی ہیں۔میں نے سوچا کہ اگر میں نے دو گنا خرچ کرنا ہے تو اتنے ہی پیسے خرچ کر کے میں دوگنی رضائیاں بناؤں گا اور ضرورت پوری ہو جائے گی اور اصل ان کے اس مہنگے اندازے نے میری توجہ اس طرف پھیری کہ اگر چار ہزار چار سو روپے کی رقم خرچ کرنی ہے تو پھر ایک سولحاف پر کیوں خرچ کی جائے۔اس سے زائد پر خرچ کرنی چاہئے۔میں نے انہیں کہا کہ اسی قیمت میں دو سو لحاف بنیں گے۔وہ کہنے لگے کہ وہ کیسے؟ میں نے کہا کہ اس لئے کہ ہمارا احمدی زمیندار روئی کی کاشت کرتا