خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 625 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 625

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۲۵ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطار ہو رہی ہے چار پانچ سال سے کچھ انتظام بدلے کچھ ذمہ داریاں بدلیں۔اس وقت یہ کام مکرم مرزا طاہر احمد صاحب کے سپرد ہے اور فضل عمر فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق پہلا حصہ مرتب ہو چکا ہے اور اُمید ہے کہ شوریٰ تک شائع کر دیا جائے گا۔دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ فضل عمر فاؤنڈیشن کو اپنے اس روپیہ کو جو خدا تعالیٰ کی ایک نعمت ہے ایسے کاموں پر خرچ کرنے کی جلد تو فیق عطا کرے کہ جو کام اللہ تعالیٰ کی مزید نعمتوں اور فضلوں کو جذب کیا کرتے ہیں۔ہر سال ہی جماعت اپنے ان بھائیوں کا خیال رکھتی ہے جنہیں دنیوی لحاظ سے بعض تکالیف ہوں اور بعض ضرورتیں لاحق ہوں۔یہ درست ہے کہ جتنی ضرورت ہے اس کے مطابق اس وقت جماعت احمدیہ کو بھائیوں کے کام آنے کی بساط اور طاقت خدا نے ابھی نہیں دی کل کو دے گا اور ساری ضرورتیں پوری ہو جائیں گی اور یہ بھی صحیح ہے کہ بعض لوگ اپنی ضرورتوں کا اندازہ بھی غلط لگا لیتے ہیں۔مثلاً ایک شخص ہے نوجوان ہے اُس نے شادی کروانی ہے اور وہ واقف زندگی ہے اور غریب گھرانے کا بچہ ہے۔نہ گھر میں دولت ہے نہ اُس نے دولت کی کوئی پرواہ کی۔اُس نے اپنی زندگی وقف کر دی اب شادی کا مرحلہ ہے اور اس پر بہر حال کچھ نہ کچھ خرچ ہوتا ہے۔تو اگر وہ اپنا اندازہ درست کرے اور اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے تو اُس کے بھی کام پورے ہو جائیں اور ہماری خواہش بھی پوری ہو جائے لیکن اگر ایک واقف زندگی یہ کہے کہ میں نے شادی کروانی ہے میرے لئے دس ہزار روپے کا انتظام کر دو تو اس نے غلط اندازہ لگایا اور اگر ہم یہ کہیں کہ ہم ہزار دو ہزار کا انتظام نہیں کر سکتے تو ہم نے غلط اندازہ لگایا۔خدا تعالیٰ کا فضل ہے ہم غلط اندازے نہیں لگاتے۔جس حد تک ممکن ہو امداد کر دیتے ہیں لیکن بعض دفعہ غلط اندازے لگانے والے بھی ہمارے پاس آجاتے ہیں۔جو میں نے مثال دی ہے یہ کوئی لمبا چوڑا فرق نہیں۔تو ہمارے احمدی بچوں اور نو جوانوں سے اس قسم کی غلطی بعض دفعہ ہو جاتی ہے۔جو ابھی ہم میں داخل بھی نہیں ہوئے بعض دفعہ میرے پاس اُن کا یہ خط آجاتا ہے کہ میں بڑا دکھیا مجھے بڑی مصیبت بڑی مالی تنگی ہے اور سُنا ہے کہ آپ غریبوں کی بڑی مدد کرتے ہیں۔میں ایک تجارت کرنا چاہتا ہوں مہربانی کر کے بواپسی خط ایک لاکھ روپیہ مجھے بھجوا دیں اور بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں ( اور ہم حسن ظنی کی داد دیتے ہیں) کہ ان کے پاس بے تحاشا روپیہ ہے اور یہ اسراف سے بھی نہیں رکیں گے اور دنیا کو خوش کرنے کے