خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 624 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 624

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۲۴ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطاب ------- اس سرحد پر بھی لڑنے کے لئے تیاری کرے گا کہ جو دوسروں کے اعتراضات اسلام پر ہیں اور خدا اور رسول کے متعلق وہ نا سمجھی کی باتیں کرتے رہتے ہیں ان کے جوابات مختلف مضامین کے ماتحت وہ نو جوان دے گا لیکن اس طرف ہماری جماعت بہت کم توجہ کر رہی ہے۔میرے خیال میں اس وقت ہزاروں کی تعداد میں ہمارے پاس ایم ایس سی اور ایم اے اور اس سے بالا تعلیم والے احمدی موجود ہیں اور بی اے یا بی ایس سی کو لیا جائے یا سکول ٹیچر ز (بی ایڈ وغیرہ) ان کے اندر علمی مذاق پیدا ہونا چاہئے۔ان کو خدا تعالیٰ نے اس کی استطاعت عطا کی ہے کیونکہ وعدہ تھا اور خدا اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کیا کرتا۔لیکن ایک شخص یہ استطاعت رکھتا ہو کہ وہ اپنے مُلک میں سب سے اچھا تیراک بن سکے لیکن وہ تیرنا نہ سیکھے تو اس ملک کو ایسے تیراک سے تو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا اور نہ اللہ تعالیٰ پر اس کے دل میں یہ اعتراض پیدا ہوسکتا ہے کہ تو نے مجھے استعداد ہی نہیں دی ورنہ میں اس میدان میں بھی دنیا کو آگے نکل کر دکھاتا۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے تو استعداد دی مگر اُس نے اس استعداد سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کی۔اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا اور نہ وہ اپنی طاقتوں میں کمزور ہے کہ کمزوری کی وجہ سے وہ وعدہ پورا نہیں کر سکا۔نہ وہ وعدہ خلافی کی صفت اپنے اندر رکھتا ہے کہ کوئی کہہ سکے کہ طاقت بھی رکھتا ہے لیکن اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔وہ تو سبحان اللہ ہر قسم کے عیب اور کمزوری سے پاک ذات ہے۔تمام قدرتوں کا مالک ہے اس نے کہا ہے کہ میں نے جماعت احمدیہ کے ذہن کو ساری دنیا پر غالب آنے کے لئے بنایا۔اگر جماعت احمدیہ کا ذہن علمی میدان میں ساری دنیا پر غالب آنے کے لئے کوشش ہی نہ کرے تو وہ ناشکرے کہلائیں گے۔وہ جاہل نہیں کہلائیں گے۔وہ نا اہل نہیں کہلائیں گے وہ ناشکرے کہلائیں گے کہ خُدا نے ایک طاقت انہیں دی لیکن اس سے اُنہوں نے فائدہ ہی نہیں اُٹھایا۔پس اس طرف ہمیں توجہ دینی چاہئے۔ہزاروں نوجوان ہیں اور پانچ سات مقالے دے کر آپ اس ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتے۔میں تو حیران ہوں۔ہمارے پاس ہر مضمون کے متعلق پانچ سوسات سو کے مقالے آنے چاہئے تھے۔جو متحن بنتے اُن کو بھی پتا لگے کہ احمدیوں کے دماغ کس طرح علم کی رفعتوں پر پرواز کرتے ہیں۔بہر حال اس طرف توجہ نہیں دی گئی۔اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔یہ بڑی ضروری بات ہے حضرت فضل عمر مصلح موعودؓ کی سوانح پر چار پانچ سال سے ایک کتاب کی تیاری ----