خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 619 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 619

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۱۹ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطاب کر دیں۔اُس نے کہا چلو وہ اُس کے پاس آیا اور اُس بی اے کے طالب علم کی اُس نے اُس جواب سے جو اللہ تعالیٰ سے سیکھ کر اُس شخص کو دیا تسلی کروا دی اور وہ وہ شخص تھا جو ایک زمیندار تھا اور اپنے دستخط بھی نہیں کر سکتا تھا لیکن جب فرشتے آسمانوں سے نازل ہو کر علوم روحانی اور علوم دنیاوی سکھاتے ہیں تو وہ یہ نہیں تلاش کیا کرتے جن کو دستخط آتے ہیں صرف انہیں کے پاس پہنچیں۔وہ یہ دیکھا کرتے ہیں کہ جن کے دل میں تقویٰ کی شمع روشن ہو اور جن کے اندر یہ جوش اور جذ بہ ہو کہ وہ اسلام کے ایک مجاہد کی حیثیت سے اسلام کی فوقیت کو ثابت کر کے دکھا دیں گے۔اُن کے پاس اللہ تعالیٰ کے فرشتے آتے اور آسمانی علوم ان کو سکھاتے اور دشمن کو لاجواب کر دیتے ہیں یہ ایک بہت بڑی بشارت ہے جس کی ابتدا ہر لحاظ سے ہو چکی۔اسی سال ہمارے ملک کی یونیورسٹیوں میں چار یا پانچ مضامین میں احمدی بچے یا بچیاں ساری یونیورسٹی میں فرسٹ آئے۔اسی سال ہمارے ربوہ کے کالج میں ایم ایس سی فزکس ( جو مضمون کے لحاظ سے بھی ایک مشکل مضمون ہے اور ایم ایس سی کے امتحان کے لحاظ سے بھی ایک اونچا امتحان ہے ) کے امتحان میں ہمارے ایک بچے نے یونیورسٹی میں آج تک جو سب سے زیادہ نمبر لئے گئے تھے اُس سے بھی زیادہ نمبر لئے اور ربوہ کے سارے کے سارے طلبہ جو اس امتحان میں شامل ہوئے انہوں نے فرسٹ ڈویژن لی اور خالی فرسٹ ڈویژن نہیں لی بلکہ وہ سارے کے سارے (سات یا آٹھ جتنے بھی تھے ) وہ یونیورسٹی میں پہلے سترہ طلبہ جنہوں نے سب سے زیادہ نمبر لئے تھے اس فہرست میں تھے۔اللہ تعالیٰ اس رنگ میں بھی فضل کر رہا ہے۔میں نے بتایا کہ جو علم روحانی سے فائدہ اُٹھا کر اور علم کلام کے مقابلہ میں ساری دنیا میں آج اسلام کا علم کلام پیش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے اسلام کی برکت ثابت کرتا ہے اور اس پیشگوئی کو پورا کرتا ہے کہ میں تیرے فرقہ کو اس قدر علم اور معرفت میں کمال عطا کروں گا کہ وہ سب کا منہ بند کر دیں گے لیکن جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں کچھ افسوس بھی ہوتا ہے۔یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن علوم یہ اللہ اور معرفت کے خزانوں کے دروازے ہمارے لئے کھولے ہیں ہم میں سے کم ہیں جو ان سے فائدہ اُٹھا کر دنیا کی طرف ان خزانوں کو لے کر جائیں اور کوشش کریں کہ دنیا بھی ان خزانوں میں حصہ دار بنے۔بہت کم یہ کوشش ہو رہی ہے اور اس کی طرف توجہ کی ضرورت ہے کہ دنیا دارد نیوی