خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 609
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۰۹ ۱۲۸ دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب اس میں اپنا فضل شامل کر کے اتنی طاقت پیدا کر دے گا۔اب دنیا اسلام کی طرف متوجہ ہو رہی ہے۔وہ لوگ جن کی زبانیں اسلام کو بُرا بھلا کہنے میں اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے میں بخشک ہو رہی تھیں۔انہوں نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ ہم اسلام کی تعلیم کو غور کی نظر سے دیکھیں اور سوچیں۔اب ایک دنیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرنے لگ گئی ہے۔وہ پہلے ایسا نہیں کرتی تھی۔چنانچہ دنیا میں ایک انقلاب عظیم بپا ہو رہا ہے لیکن خدا کہتا ہے کہ اُس نے بنی نوع انسان کے سامنے اور قیامت کے دن بھی یہ اعلان ہوگا کہ خدا کہے گا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک پیارے کو ایک جماعت یہ کہتے ہوئے دی تھی کہ ان کے ذریعہ میں اسلام کو نمایاں کروں گا۔اس لئے جو تمہارا ہے وہ مجھے دے دو۔جو میرا ہے وہ بھی تمہیں مل جائے گا اور تم غالب آ جاؤ گے۔ورنہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔اس لئے سب سے بڑی چیز دُعا ہے۔غلبہ اسلام کے لئے قربانیاں بھی دیں۔غلبہ اسلام کے لئے اپنا آرام و آسائش بھی قربان کر دیں۔ایثار اور قربانی کا نمونہ پیش کریں۔اور یہ پیشکش اپنے رب کے حضور رکھیں اور سب سے زیادہ دعائیں کریں۔اس لئے بھی کہ خدا تعالیٰ آپ کو مقبول خدمت کی (ایسی خدمت کی جسے خدا تعالیٰ قبول کرتا ہے اور احسن جزاء دیتا ہے ) تو فیق عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے مطابق اور اپنی بشارتوں کی رُو سے وہ نتائج نکالے جس کا اس نے اعلان فرمایا ہے کہ میں جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے اسلام کو غالب کروں گا۔میری یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ آپ نے یہاں جو سنا اور سمجھا آپ اس سے ہمیشہ بہتر سے بہتر فائدہ اُٹھاتے رہیں اور ہماری یہ جو دعا ئیں تھیں انفرادی بھی اور اجتماعی بھی کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے ہم وارث بنیں۔خدا کرے کہ وہ دعائیں قبول ہوں اور ہم حقیقتا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن جائیں اور ہمیں اس کا وہ پیار حاصل ہو جائے جس کے بعد اُس کی ناراضگی کا کوئی خوف باقی نہیں رہتا۔اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو۔یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فرشتے اُس کی رحمت کا سایہ آپ کے سروں پر کئے رکھیں اور آپ خیر و عافیت کے ساتھ اپنے اپنے گھروں میں پہنچیں۔خیریت رہے سفر میں بھی اور اس حضر میں بھی (مرکز حضر ہی ہوتا ہے ) جو اس سفر کے بعد ہو گا۔کسی نے یہاں سے اسی میل دور جانا ہے کسی نے تین ہزار میل