خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 598 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 598

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۹۸ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب میں رحمان ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سے کسی چیز کا اجر نہیں مانگتا یہ رحمانیت کے معنی اور مفہوم کا بنیادی تصور ہے۔یعنی بغیر کسی عوض کے خدمت کرنا اور مخلوق خدا پر رحم کرنا۔جو خدا تعالیٰ کا سچا عاشق ہے اور اس کے جلوؤں کو دیکھتا ہے اور اس کی صفات کی معرفت رکھتا ہے اور اس کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اس صفت سے متصف ہو اور بنی نوع انسان کی خدمت بغیر کسی اجر کے کرتا رہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔گالیاں سن کر دُعا دو اب گالی دینا کوئی خدمت تو نہیں جس کے بدلے میں کسی کو دُعا دی جائے کہ گویا کسی کی خدمت کا بدلہ اُتارا جا رہا ہے۔بلکہ وہ تو خدمت کی ایک بھیانک شکل میں نفی ہے مگر گندہ دہانی کرنے والا شخص جس کی گندہ دہانی اپنی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہو وہ بھی یہ یادر کھے کہ وہ ہمارے احسان سے بچ نہیں سکتا۔وہ اپنی محفلوں کو ہمیں گالیاں دے کر سجاتا ہے۔ہم اپنی راتوں کو ان کے لئے دعائیں کر کے منور رکھتے ہیں۔ہمارا خدا رحمان ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ اس کی صفت رحمانیت کے مظہر کے طور پر اس کے جلوؤں میں اپنی طرف سے تھوڑی سی چاشنی ملا دیں۔تاکہ اس کی رحمتوں کے ہم بھی وارث بن جائیں۔یہ ضروری ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو باتیں بیان فرمائی ہیں۔خصوصاً اس ضمن میں وہ بڑی ضروری ہیں۔کئی لوگ ایسے موقع پر غصے میں آ جاتے ہیں۔ویسے تو یہ انسانی فطرت ہے۔غصہ میں آنا نہ بُرا ہے اور نہ قابلِ اعتراض ہے۔تاہم غصے کو نہ دبانا یہ بُری بات ہے۔میں نے بتایا تھا کہ ایبٹ آباد میں ہمارے مکان بن رہے تھے۔بعض لوگوں نے ان کو آگ لگا دی جس سے ہیں پچیس ہزار روپے کا نقصان ہو گیا۔ہمارے بعض احمد یوں نے بڑے غصے کا اظہار کیا۔میں نے اُن سے کہا تم بڑے عجیب لوگ ہو۔تم یہ بنیادی بات بُھول جاتے ہو کہ جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے اتنا بلند مقام عطا فرمایا ہے اور اس کے اندر اتنی طاقت اور وسعت پیدا کر دی ہے کہ یہ ہیں پچیس ہزار روپے کی رقم اس کے لئے ایسی ہے جیسے ایک مضبوط جسم پر ایک مکھی آکر بیٹھ جائے۔کیا وہ مضبوط جسم اس مکھی کے بوجھ تلے دب جایا کرتا ہے۔نہیں ! ہر گز نہیں !! ہم ان کی ان حرکتوں کے نتیجہ میں ان کے دشمن نہیں بنتے۔بلکہ ہمارے دل میں اُن کے لئے رحم کی موجیں اور زیادہ شدت اختیار کر