خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 591
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۹۱ ۱۲۸ دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب ربوبیت کاملہ کے مظہر نہیں تھے۔حضرت موسیٰ آئے تو انہوں نے فرمایا کہ صرف بنی اسرائیل کی اصلاح اور ترقی میرے مد نظر ہے۔مجھے کسی اور قوم سے کیا غرض ؟ اس لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کے لئے رحمت تھے۔اس میں کوئی شک نہیں لیکن عالمین کے لئے رحمت نہیں تھے۔خدا تعالیٰ کی ربوبیت کے مظہر تو تھے لیکن ربّ العالمین کی صفت کے مظہر نہیں تھے۔رب العالمین کی ربوبیت کا ملہ کا کامل مظہر وہ دل تھا جس پر ربّ العالمین کا جلوہ نازل ہوا اور اس نے اس پاک وجود کو رحمتہ للعالمین بنادیا۔آپ کا دل بنی نوع انسان کے لئے گداز ہوا۔آپ کا سا را ماحول عرب تھا لیکن آپ کا دل ہے کہ رحمتہ للعالمین کی موجوں سے لبریز تھا۔آپ نے جزیرہ نمائے عرب سے یہ اعلان کیا کہ کالے اور سفید میں کوئی فرق نہیں۔سرخ اور سفید میں کوئی فرق نہیں۔عرب اور عجم میں کوئی فرق نہیں ہے۔یہ جذبہ اور یہ انسانی قدرو منزلت رحمۃ للعالمین کا نتیجہ ہے۔یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام ( جو اپنی اپنی قوموں اور زمانوں کے لئے رحمت تھے ) ان کا نہ یہ جذبہ ہے اور نہ اُن کے بس کی یہ بات ہے۔پس خدا نے فرمایا۔میں رب العالمین ہوں اور خدا نے فرمایا کہ میرا محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض و برکات کو لیں تو وہ ساری دنیا پر محیط ہیں۔آپ کی ہدایت اور تبلیغ کو سامنے رکھیں تو وہ ساری دنیا پر مند ہیں۔گویا اللہ تعالیٰ نے آپ کو قیامت تک کے لئے فیض رسانی کا ذریعہ بنا دیا۔یہ چیز تھی جو آپ لائے۔آپ ساری دنیا کے لئے نبی اور آپ سارے زمانوں کے لئے ہیں۔نہ پہلے انبیاء کی مکانی وسعت ساری دنیا تھی اور زمانی وسعت قیامت تک کا زمانہ تھا۔رحمانیت کو لیں۔یعنی بغیر اجر دینے والا تو اس میں بھی آپ کی ذات اسوہ کا رنگ رکھتی ہے۔رحمانیت کے جلوے مجاہدہ کے محتاج نہیں ہوتے۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے فائدہ کے لئے سورج بنایا۔ہم نے کب سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھانے کی خاطر کوئی مجاہدہ کیا تھا۔یا کوئی نمازیں پڑھی تھیں۔یا کوئی قربانیاں دیں تھیں۔یا کوئی خدمت خلق کی تھی۔ہماری پیدائش سے ہی نہیں بلکہ آدم کی پیدائش سے بھی پہلے اس کا رخانہ عالم کی ہر چیز کو انسان کی خدمت پر لگا دیا۔اسی طرح بے شمار چیزیں صفت رحمانیت کی مظہر ہیں۔اس کے لئے انسان کو کچھ کرنا نہیں پڑتا۔اللہ تعالی کی یہ صفت خود بخود جوش میں آتی ہے اور جانداروں کے لئے وہ کسی عمل کے بغیر نعماء اور