خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 562
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۶۲ ۱۲۷ دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطار ہے کہ جماعت نے مالی لحاظ سے فضل عمر فاؤنڈیشن میں جو زائد قربانیاں دی ہیں اس کا زمانہ ابھی ختم ہوا ہے اور اب خدا تعالیٰ کی منشاء کے مطابق اس کے حکم سے جماعت کے کندھوں پر یہ نیا بوجھ ڈال رہا ہوں مگر مجھے امید ہے کہ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے بشاشت کے ساتھ اور ہنستے کھیلتے اس بوجھ کو اُٹھالے گی۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے ہماری قربانیوں کو قبول فرما کر ہم پر کیا کیا فضل نازل فرمائے۔مخلصین پاکستان اس وقت تک نصرت جہاں ریزروفنڈ میں ۲۰,۳۹۰, ۲۷ روپے کے وعدے کر چکے ہیں۔جب کہ بیرون پاکستان میں وعدے پاکستانی سکہ میں ۲۰,۸۰۰, ۳۱ روپے ہیں یعنی بیرون ممالک مجموعی طور پر پاکستان سے آگے نکل گئے ہیں۔اس رقم میں ابھی وہ زائد وعدے جو انگلستان میں دوستوں نے کئے ہیں وہ شامل نہیں۔اس طرح کل وعدے ۵۸ لاکھ سے اوپر جاچکے ہیں۔میں نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے پیش نظر ا۵ لاکھ کی خواہش کی تھی۔مگر اللہ تعالیٰ نے جماعت کو بڑی ہمت عطا فرمائی۔دوستوں نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا چنا نچہ ا کا وان لاکھ کی بجائے اٹھاون لاکھ کے وعدے ہو چکے ہیں۔اس تحریک میں حصہ لینے والے۳۰،۲۸۲ پاکستان سے اور بیرونی ممالک میں حصہ لینے والے ۲۰۰۱۱ دوست ہیں۔پندرہ دسمبر ۱۹۷۲ ء تک وصولی کا نقشہ حسب ذیل ہے۔پاکستان میں ۸۳۴، ۷۸، ۱۷ روپے یعنی قریباً ۱۸ لاکھ روپیہ وصول ہو چکا ہے۔بیرون پاکستان میں ۱۵ لاکھ روپے جمع ہو چکے ہیں۔اندرون اور بیرون پاکستان کی مجموعی رقم جو وصول ہو چکی ہے ۴۴۸ ، ۳۲،۶۷ روپے بنتی ہے۔ابھی وصولی کا زمانہ ختم نہیں ہوا۔جا فضل عمر فاؤنڈیشن میں جماعت نے دی تھی اس سے زائد رقم جمع ہو چکی ہے۔یعنی فضل عمر فاؤنڈیشن کی جو نقد رقم وصول ہوئی تھی وہ ۳۰۷۷۵۸۰ روپے جب کہ نصرت جہاں ریز روفنڈ کی وصولی ۳۲ لاکھ سے زیادہ ہے۔الحمد للہ علی ذالک سورۃ فاطر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتب اللهِ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَأَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ لِيُوَفِّيَهُمْ أَجُورَهُمْ وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ إِنَّهُ غَفُورٌ شَكُورٌ (فاطر: ۳۱،۳۰)