خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 561 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 561

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۶۱ ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطاب جماعت بھی اس کے لئے دعا کرے کہ جو وقت ہم نے اس کی اشاعت کے لئے سوچا ہے خدا کرے اس سے پہلے یہ کام مکمل ہو جائے۔مجلس نصرت جہاں ۱۹۷۰ء میں میں نے مغربی افریقہ کا دورہ کیا۔میں گیمبیا میں تھا جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ کہا گیا کہ کم از کم ایک لاکھ پاؤنڈ ان ملکوں میں اشاعت کی مہم کو تیز کرنے پر خرچ کرو۔میں بڑا خوش ہوا اور اللہ تعالیٰ کی بڑی حمد کی۔اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو گیا کہ اس نے بڑی مہربانی کی ہے۔وہاں سے میں لندن آیا اور وہاں میں نے پہلی دفعہ اس کا اعلان کیا اور میں نے احباب سے کہا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے کہا ہے کہ تم ایک لاکھ پاؤنڈ طبی مراکز اور تعلیمی اداروں پر خرچ کرو۔اس لئے مجھے یہ فکر نہیں ہے کہ یہ ایک لاکھ پاؤنڈ کی رقم کہاں سے آئے گی۔میں تو ایک غریب بے کس انسان ہوں میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔جب خدا نے مجھے کہا ہے کہ خرچ کرو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ساتھ مجھے یہ وعدہ بھی دے رہا ہے کہ میں خود اس رقم کو مہیا کروں گا اور اسی طرح مجھے یہ بھی فکر نہیں ہے کہ ڈاکٹر اور ٹیچر کہاں سے آئیں گے خدا خود اپنے فضل سے دے گا۔جس بات کا مجھے فکر ہے اور آپ کو بھی فکر ہونا چاہئے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس حقیر کوشش کو قبول فرمائے اور وہ ہمارے اس منصوبہ میں برکت ڈالے پہلے تو میں نے ان کا کچھ اور ٹارگٹ مقرر کیا پھر میں نے ان کو کہا اور پھر یہاں بھی آ کر کہا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خدمت پر جتنے سال گزرے ہیں اتنے لاکھ اور لندن کی جماعت سے کہا کہ غالبا اتنے پاؤنڈ دے دو۔اب تو پچاس ہزار پاؤنڈ کی قیمت کوئی چودہ پندرہ لاکھ روپے بن جاتی ہے۔یہ بڑی چیز ہے۔پھر میں نے ان سے کہا میرے لندن سے روانہ ہونے سے پہلے پہلے دس ہزار پاؤنڈ نقد جمع کرو تا کہ ہم فوراً کام شروع کر دیں۔ابھی چند دن ہوئے کہ تار آیا ہے کہ وعدہ جات اکاون ہزار پاؤنڈ سے اوپر چلے گئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ۳۷ اور ۴۰ ہزار کے درمیان وعدے ادا بھی ہو چکے ہیں گویا بہت تھوڑا حصہ ہے جو باقی رہتا ہے۔چنانچہ میں نے واپس یہاں آ کر بھی تحریک کی اور میں نے اس وقت یہ بھی کہا کہ مجھے معلوم وقت یہ بھی کہا کہ