خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 560
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطار سو نسخے بیچ لگژری ہوٹل میں رکھوانے کا انتظام کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی جزائے خیر عطا فرمائے۔پریس کی سکیم مکمل ہو چکی تھی۔مگر یہاں کے ملکی حالات بدل گئے۔گذشتہ سال سوا سال کا زمانہ بڑے فسادات کا زمانہ ہے اب بھی کئی لوگوں کو جوش آ جاتا ہے کہ ہم امن اور شرافت سے بھی آجاتا کیوں رہ رہے ہیں۔کوئی شرارت کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔دنیا کے حالات بھی دگر گوں تھے۔دنیا تو خفا تھی اپنے بھی پاکستان سے خفا تھے۔پھر حکومت کو دنیا کے حالات کو دیکھ کر اپنے روپے کی قیمت گھٹانی پڑی چنانچہ ہمارا منصوبہ نہایت اعلی مکمل پریس کی شکل میں ایک ہی کمپنی نے سارا تیار کر کے یعنی اس کی ہر چیز ایک لاکھ پاؤنڈ کے عوض تیار کی جس کا مطلب تھا کہ یہ پریس گیارہ لاکھ روپیہ میں لگے گا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے میرے دماغ میں سکیم آگئی تھی۔اس لئے میں نے جماعت سے کسی مزید چندے کی اپیل نہیں کرنی تھی اور یہ رقم دے دینی تھی مگر روپے کی قیمت گر جانے سے وہی پر لیس جو گیارہ لاکھ روپے میں مکمل ہونا تھا اس پر اب ستائیس لاکھ روپے کی لاگت آتی ہے اور کچھ اس میں قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں شاید اس لئے بھی اور زیادہ قیمت ہوگئی ہو۔پھر جب ستائیس لاکھ قیمت ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے ایک نئی سکیم سمجھائی بدلے ہوئے حالات میں اللہ تعالیٰ خود معلم بنتا ہے اور انگلی پکڑ کر منزل کی طرف لے جاتا ہے۔ورنہ ہم عاجز بندے ہیں۔اگر اس کی رہنمائی حاصل نہ ہو تو ہم کہاں کام کر سکتے ہیں لیکن اس سکیم کے مکمل ہونے میں کچھ دیر لگے گی۔تاہم میں یہ چاہتا تھا کہ کام شروع ہو جائے۔پھر آہستہ آہستہ پھیل کر عمدہ شکل میں مکمل ہو جائے گا۔اس لئے زمین کی تعیین کر دی گئی ہے۔جس پر چار دیواری کا ایک حصہ بھی بن چکا ہے۔میرا خیال ہے کہ انشاء اللہ اگلے جلسہ سالانہ سے پہلے (اللہ تعالیٰ ہر طرح سے خیر رکھے تو ) وہاں ایک چھوٹا پر لیس لگا دیا جائے گا۔جس میں اکثر یہیں کی مشینیں ہوں گی کچھ باہر سے منگوائیں گے۔خود نہ منگوا سکے تو بیرونی جماعتوں سے کہیں گے کہ قرآن کریم کی اشاعت کے کام میں ہمارا ہاتھ بٹاؤ اور بعض مشینری ہمیں بطور تحفہ بھیجو۔پس یہ پریس انشاء اللہ اگلے سال کسی نہ کسی شکل میں کام شروع کر دے گا۔وباللہ التوفیق۔ہماری خواہش یہ ہے کہ اگلے پانچ سات سال میں مختلف زبانوں میں دس لاکھ قرآن کریم مترجم دنیا کے ملک ملک میں پھیلا دیں۔قرآن کریم کی اس ہمہ گیر اشاعت کی سکیم کو میں اس لئے دُہرا رہا ہوں کہ جہاں میں اس کے لئے دعا کرتا ہوں ساری