خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 559
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۵۹ ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطاب کاغذ بنانے کے کارخانے ابھی اتنا اچھا نہیں بنا سکتے۔انشاء اللہ وہ بھی جلد اچھا کاغذ بنانے لگ جائیں گے لیکن ابھی وہ اتنے اچھے کاغذ نہیں بنا سکتے۔کاغذ کی موٹائی ہر جگہ برابر نہیں ہوتی۔اس واسطے جب فرمے میں آتا ہے تو جس جگہ کا غذ موٹا زیادہ ہوتا ہے وہاں ضرورت سے زیادہ سیاہی لگ جاتی ہے اور جہاں سے پتلا ہوتا ہے وہاں لفظ مٹ جاتا ہے یا لفظ صاف نہیں اٹھتا۔اس لئے لندن سے جو کاغذ آئے گا اس پر قرآن کریم چھپوا کر امریکہ میں بھجوایا جائے گا کیوں کہ ان لوگوں کو اچھے کا غذ پر کتابیں چھاپنے اور پڑھنے کی عادت پڑی ہوئی ہے۔اچھے کاغذ کے اوپر کتابیں شائع کرتے ہیں۔اگر وہ یونہی فضولیات قسم کی کتابیں ہیں میں ڈالر پر بیچ دیتے ہیں تو قرآن کریم میں تو ہر بھلائی ، عزت اور خیر کا سامان ہے اس کی قیمت کم کیوں ہو۔میں نے جماعت کو یہ مشورہ دیا تھا کہ جہاں تک ممکن ہو جو طریق عیسائیت نے اختیار کیا ہے وہی قرآن کریم کی اشاعت کے سلسلہ میں ہمیں بھی اختیار کرنا چاہئے۔عیسائیت کے پاس تو بڑے پیسے ہیں اس لئے دنیا کے ہر بڑے ہوٹل کے ہر کمرہ میں بائیبل کا ایک نسخہ پڑا ہوا ہے۔یہ صیح ہے کہ اگر کسی ہوٹل کے ایک کمرے میں دس ہزار آدمی ٹھہرتا ہے تو شاید ان میں سے ایک آدمی کو بائیبل سے دلچسپی پیدا ہوتی ہو اور وہ اسے پڑھتا ہو۔لیکن یہ میچ ہے کہ اگر ایک آدمی کو دلچسپی پیدا ہو تو اس کے لئے بائیبل موجود ہے۔لیکن اگر دس ہزار میں ایک آدمی کو قرآن کریم با ترجمہ دیکھنے کی ضرورت پڑے تو اس کے لئے اس کمرے میں قرآن شریف نہیں ہے۔اس واسطے بڑے بڑے ہوٹلوں کے ہر کمرے میں بائیبل کے ساتھ قرآن کریم پڑھا ہوا ہونا چاہئے۔اگر ہم نے دنیا کی توجہ قرآن عظیم کی طرف پھیرنی ہے تو پھر اس طرح بھی قرآن کریم کی اشاعت ضروری ہے۔الحمد لله ہمارے افریقن بھائیوں نے جونا کیجیریا میں بستے ہیں اس کی ابتداء کر دی ہے۔نائیجیریا کے ایک بڑے ہوٹل کے سو کمرے تھے انہوں نے قرآن کریم مترجم خرید کر ہوٹل والوں کو دے دیئے ہیں۔ہمارے دوستوں نے یہ تحفہ بڑے پیار سے دیا اور انہوں نے بڑے پیار سے لیا۔ایک دوسرے ہوٹل میں جس کے دوسو کمرے تھے وہاں احمدیوں نے دو سو قرآن کریم خرید کر ہر کمرے میں رکھنے کے لئے دیئے ہیں۔ابتداء ہو گئی ہے اور جب ابتداء ہو جائے تو انشاء اللہ انتہاء بھی ہو جایا کرتی ہوگئی ہے۔جماعت احمدیہ کراچی کی طرف سے مجھے ابھی ابھی بتایا گیا ہے کہ انہوں نے قرآن کریم کے