خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 46
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۶ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب پیشگوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشان آسمانی ہے جس کو خدائے کریم جلشانہ، نے ہمارے نبی کریم رؤف و رحیم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے ظاہر فرمایا ہے اور در حقیقت یہ نشان ( فرزند موعود کا ایک مردہ کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ اعلیٰ و اولی و اکمل وافضل واتم ہے۔مُردہ کی بھی روح دعا سے واپس آتی ہے اور اس جگہ بھی دعا سے ایک روح ہی منگائی گئی ہے مگر ان روحوں اور اس روح میں لاکھوں کوسوں کا فرق ہے۔جولوگ مسلمانوں میں چھپے ہوئے مرتد ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا ظہور دیکھ کر خوش نہیں ہوتے بلکہ ان کو بڑا رنج پہنچتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحه ۱۰۰،۹۹) نو برس کی میعاد پر بعض لوگوں نے مثلاً منشی اندر من مراد آبادی نے اعتراض کیا کہ اس لمبی معیاد میں تو کوئی نہ کوئی لڑکا پیدا ہوسکتا ہے۔یعنی مخالفوں نے کہا۔یہ بھی کوئی پیشگوئی ہے آپ کی بیوی ہے بچے اس سے پیدا ہو رہے ہیں پہلے بھی ہوئے اور آئندہ بھی ہو سکتے ہیں پھر یہ کہہ دینا کہ نو سال کے اندر ایک لڑکا اللہ تعالیٰ عطا کرے گا۔یہ کیا پیشگوئی ہوئی ہم ایسی پیشگوئی کو نہیں مانتے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔واضح ہو کہ جن صفات خاصہ کے ساتھ لڑکے کی بشارت دی گئی ہے کسی لمبی میعاد سے گونو برس سے بھی دو چند ہوتی اوس کی عظمت اور شان میں کچھ فرق نہیں آ سکتا۔بلکہ صریح دلی انصاف ہر یک انسان کا شہادت دیتا ہے کہ ایسے عالی درجہ کی خبر جو ایسے نامی اور اخص آدمی کے تولد پر مشتمل ہے انسانی طاقتوں سے بالا تر ہے اور دعا کی قبولیت ہوکر ایسی خبر کا ملنا بے شک یہ بڑا بھاری آسمانی نشان ہے نہ یہ کہ صرف پیشگوئی ہے“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحه ۱۰۱) ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کو جب حضرت مصلح موعودؓ پیدا ہوئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آر کی پیدائش کی اطلاع اس اشتہار کے ذریعہ دی جس کا نام تکمیل تبلیغ تھا چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔خدائے عزوجل نے جیسا کہ اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۶ء واشتہار دسمبر ۱۸۸۶ء میں مندرج ہے۔اپنے لطف وکرم سے وعدہ دیا تھا کہ بشیر اوّل کی وفات کے بعد ایک دوسرا