خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 555 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 555

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۲۷ دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطار ہے۔جب سارے شاہد ہیں اور سارے الا ما شاء اللہ قربانی دینے والے اور فدائی ہیں تو پھر مربی اور مبلغ کا امتیاز نہیں ہونا چاہئے۔اس فرق کو دور کرنے کی بہتر صورت یہی تھی کہ یہ سب ایک ہی انتظام کے ماتحت رہیں۔چنانچہ اس کے لئے جو ابتداء انتظام کیا اس کا نام پول (Pool) رکھا گیا۔یہ ایک انگریزی کا لفظ ہے اور یہ کچھ اچھا نہیں لگتا تھا۔لیکن اور کوئی موزوں لفظ ملتا نہیں تھا۔اس لئے اسے اختیار کر لیا گیا پھر اس کا نام ”حدیقۃ المبشرین رکھا گیا۔یہ نام بڑا اچھا لگتا ہے۔گویا ایک ایسا باغ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شاہدین ( مربیان و مبلغین ) کی صورت میں خوبصورت درخت عطا فرمائے ہیں۔ان کے اس مشتر کہ انتظام کا اصول یہ بنایا ہے کہ پہلے قاعدہ کے مطابق جامعہ احمدیہ سے فارغ ہونے والے شاہدین کی تقسیم تعداد کے لحاظ سے تو ہو جائے گی۔کیونکہ انجمن اور تحریک دونوں نے ان کا خرچ برداشت کرنا ہوتا ہے۔مثلاً اگر جامعہ احمدیہ سے گیارہ لڑکے شاہد بن کر نکلے ہیں تو پانچ انجمن کے حصہ میں اور چھ تحریک کے حصہ میں آئیں گے۔یا کسی سال پانچ تحریک کے حصہ میں آئے ہیں اور چھ انجمن کے حصہ میں آئے ہیں۔تو ایسی نسبت سے ان کو گذارہ دینے کے لحاظ سے دونوں کی ذمہ داری ہوگی۔لیکن یہ کہ زید تحریک کا ہے اور بکر انجمن کا ہے یہ نہیں ہو گا تحریک کو اس کی ضرورت کے مطابق جو بھی اچھے اور تجربہ کار مبلغ ہوں گے جن کا ہمیں بھی تجربہ ہوگا کہ وہ باہر کام کر سکتے ہیں دے دیئے جائیں گے۔ورنہ یہ ایک لحاظ سے ظلم ہے گو ہم ان پر ایک لحاظ سے غصہ بھی ہوتے ہیں لیکن دراصل ظالم تو ہم ہی بنتے ہیں۔کیونکہ ہمارا ایک بچہ آج جامعہ احمدیہ سے پاس ہوتا ہے تو کل اسے ٹکٹ دے کر کہتے ہیں نائیجیریا میں جا؟ کر تبلیغ کرو۔حالانکہ تبلیغ کرنے کا اسے ابھی کوئی تجربہ ہی نہیں ہوتا صحیح مبلغ کی روح ابھی اس کے اندر پیدا ہی نہیں ہوئی۔قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت اور اس کی صفات کے عرفان کے متعلق جو تعلیم دی ہے اس کو اُس نے کما حقہ حاصل ہی نہیں کیا۔اس کے متعلق اس کا علم کتابوں تک محدود ہے۔اس کو دعاؤں کے ذریعہ عملی میدان میں کام کرنے کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی صفات کا عملی مشاہدہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت اور عرفان پختہ نہیں ہوا مگر اسے ہم اٹھا کر بیرونی ملکوں میں بھجوا دیتے ہیں۔جہاں وہ ٹھوکر کھاتا ہے۔بعض دفعہ ایسی چھوٹی چھوٹی غلطیاں کر جاتا ہے جن سے جماعت کو نقصان پہنچتا ہے۔مثلاً غانا میں