خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 549
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۴۹ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطاب توجہ نہیں کر رہی۔اس سال یعنی یکم جنوری تا دس دسمبر وقف عارضی کے کل ۳۳۲, ۴ فارم موصول ہوئے۔یہ کوئی ایسی زیادہ کمی تو نہیں جو باعث فکر ہو۔تاہم میں یہ چاہتا تھا کہ پانچ اور سات ہزار کے درمیان فارم آجائیں۔اگر پانچ ہزار بھی لے لیں تو پھر بھی سات سو کی کمی ہے جہاں تک وقف عارضی کے وفود کا تعلق ہے دوران سال کل ۲,۷۹۴ وفود باہر بھجوائے گئے۔یہ بھی کم ہیں۔جیسا کہ میں نے پچھلے جلسہ سالانہ پر بھی کہا تھا یہ بڑی ہمت کا رضا کارانہ کام ہے۔اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اپنی جگہ کو چھوڑنا ، اپنے خرچ پر جانا کسی کی مہمان نوازی قبول نہیں کرنی خود کھانا تیار کرنا وغیرہ۔گویا اس طرح پندرہ دن تک کام کرنا بڑے مجاہدہ کا کام ہے۔اس عرصہ میں وہ عام تکلیفوں سے بھی زیادہ تکلیف برداشت کرتے ہیں مثلاً زیادہ وقت دیتے ہیں، کم سوتے ہیں، زیادہ دعائیں کرتے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے نشان بھی زیادہ دیکھتے ہیں۔بہر حال اس کا بڑا فائدہ ہے۔بہت ساری ہماری کمزور جگہیں تھیں جو ہماری نظر سے اوجھل تھیں وہ سامنے آگئیں۔بعض جگہ جہاں تربیت کی کمی تھی وہاں تربیت ہو گئی۔بعض جگہ جہاں تبلیغ کی ضرورت تھی وہاں تبلیغ ہوگئی۔دوست ہنستے کھیلتے باتیں کرتے ، کھانا پکاتے ،مسجد میں گفتگو کرتے ، اپنوں۔سے ! ملتے غیروں سے باتیں کرتے دن گزار دیتے ہیں۔یہ ایک اور ہی روحانی فضا ہے جو وقف عارضی کے ذریعہ انسان کو میسر آتی ہے۔اس کو پروفیشن (Profession) تو نہیں کہنا چاہئے۔کیونکہ پھر پروفیشن کا یہ مطلب ہوگا کہ سارے احمدی پروفیشنل مبلغ نہیں ہیں۔سارے احمدی پروفیشنل مبلغ ہیں اس لئے اس معنی میں تو یہ لفظ استعمال نہیں کر سکتے۔لیکن عام معمول کے خلاف یہ ایک قسم کی تربیت کرنے ، ماحول کو سنوار نے ، فضا کو حسین بنانے کا ایک کام ہے۔یہ بھی ایک مہم ہے جو جاری کی گئی ہے۔اس کے بڑے فائدے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس وقف عارضی میں حصہ لینے والوں کو بہت ہی ، بہت ہی ، بہت ہی جزاء عطا فرمائے۔فضل عمر درس القرآن کلاس ہر سال ایک ماہ کے لئے منعقد ہوتی تھی پچھلے سال میں نے کہا کہ ایک ہفتہ کے لئے امراء اضلاع اپنے ہاں کلاس کا انتظام کیا کریں اور میں نے یہ ہدایت اس لئے دی کہ ایک دو امراء نے میرے پاس یہ اعتراض پہنچا دیا کہ مرکز میں اس کلاس کا انتظام بڑا خراب ہے بچے مسجد میں شور مچاتے : ہیں۔حالانکہ وہ بچے انہی کے اضلاع سے آئے ہوئے تھے۔اس لئے میں نے کہا ان کو آداب