خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 545 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 545

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۴۵ ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطاب دفعہ ایمان میں کچھ کمزوری بھی آجاتی ہے تقویٰ میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔تاہم بعض دوسری تحریکیں جب شروع ہوتی ہیں تو اس میں کمزوری نہیں آتی مثلاً نصرت جہاں ریزروفنڈ کا جب میں نے اعلان کیا تو میں نے یہ بھی کہا کہ مجھے یہ فکر ہی نہیں ہے کہ پیسے آئیں گے بھی یا نہیں اور آئیں گے تو کہاں سے آئیں گے۔کیونکہ مجھے تو خدا نے فرمایا ہے کہ خرچ کرو۔اس لئے جس خدائے قادر و توانا نے مجھے کہا ہے کہ خرچ کرو وہ چونکہ تمام خزانوں کا مالک ہے اس لئے وہ مجھے پیسے بھی عطا فرمائے گا۔مجھے تو کہے کہ خرچ کرو۔اگر وہ مجھے دے گا نہیں تو میں خرچ کہاں سے کروں گا۔میں تو خزانوں کا مالک نہیں ہوں میں ایک دھیلے کا مالک بھی نہیں ہوں۔یہ تو سب کچھ اس کی عطا ہے۔بہر حال میری اپنی طبیعت ہے۔لیکن خدا تعالیٰ نے فضل کیا اسے میں آگے چل کر خدا تعالیٰ کی توفیق سے بیان کروں گا۔اللہ تعالیٰ کے بہت بڑے فضل ہیں۔انسان ان فضلوں کو دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے۔بہر حال تین لاکھ کا زائد بجٹ آپ کے نمائندوں کے مشورہ سے بجٹ میں رکھا گیا تھا۔اس کی ادائیگی میں گو بظا ہر تھوڑی سی سستی نظر آتی ہے۔لیکن مجھے تو فکر نہیں ہے انشاء اللہ سارا بجٹ پورا ہوگا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ایسے مادہ سے بنایا ہے کہ جس کے اجزاء کا آج کا سائنسدان پتہ ہی نہیں لے سکتا کہ یہ ہے کیا چیز۔انہوں نے سونے کا بھی تجزیہ کر لیا اور ایٹم کو بھی پھاڑ کر تباہی کے سامان پیدا کر لئے اور اس طرح چاندی اور دوسری دھاتوں کی بھی مختلف طاقتیں اور ان کے استعمال ایجاد کر لئے لیکن جس مادہ سے احمدی بنا ہے اس کو سائنسدان نہیں پہچان سکے اور نہ پہچان سکیں گے۔فضل عمر فاؤنڈیشن فضل عمر فاؤنڈیشن کی ابتداء ۱۹۶۵ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر ہوئی اور عملاً ۱۹۶۶ء سے کام شروع ہوا۔گویا سات سال پہلے یہ تحریک کی گئی تھی اور جماعت نے چندہ عام اور حصہ وصیت کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ بڑے شوق کے ساتھ اور بڑے جذبہ کے ساتھ اور اس محبت کی وجہ سے جو ان کے دل میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی تھی فضل عمر فاؤنڈیشن