خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 521
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) -- ۵۲۱ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب اس کو تم طلب کرو۔دوائی کا تو یہ ہے کہ یہ ایک پردہ ہے۔یہ دنیا پردہ کی دنیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی قدرتیں بالکل ظاہر ہو کر تو سامنے نہیں آسکتیں ورنہ یہ دنیا ابتلاء اور امتحان کی دنیا نہ رہے پھر تو یہ جزاء کی دنیا ہو جائے۔وہ اگلے جہان کی باتیں ہیں۔اس دنیا میں پردوں کا یہ حال ہے کہ ایک بیچارہ غریب مزدور تھا ہمارے کالج میں کام کرتا تھا۔ایک دفعہ کام کرتے ہوئے اس کا گھٹنا فٹ بال جتنا سوج گیا۔پتہ نہیں اسے کیسی تکلیف تھی۔وہ میرے پاس آیا میں نے اسے ہومیو پیتھک (جس کے متعلق لوگ کہتے ہیں یہ کوئی دوائی ہی نہیں) کی تین چار پڑیاں بنا کر دیں اور کہا یہ کھا لو اور اس کے لئے دعا کر دی۔اڑتالیس گھنٹے کے بعد دیکھا تو وہ کام کر رہا تھا۔میں بڑا پریشان ہوا۔مجھے اس پر بڑا رحم آیا۔میں نے دل میں کہا کہ معلوم ہوتا ہے یہ اتنا غریب آدمی ہے کہ روز کماتا ہے اور کھاتا ہے اسے تھوڑ اسا افاقہ ہو گیا ہو گا اس لئے کام کرنے کے لئے آگیا ہے ورنہ بھوکا رہتا۔اس رحم کے جذبہ کے ماتحت میں نے اسے بلایا اور پوچھا تمہارا کیا حال ہے؟ کہنے لگا۔جی آرام آ گیا ہے مجھے یقین نہیں آیا۔دھوتی اس نے پہنی ہوئی تھی۔میں نے کہا ذرا دھوتی اٹھاؤ اور اپنا گھٹنا تو ذرا دکھاؤ۔جب اس نے دھوتی اٹھائی تو مجھے یہ پتہ نہ لگے کہ اس کا بیمار گھٹنا کون سا تھا۔دونوں بالکل ٹھیک تھے۔پس اللہ نے شفا دینی ہے۔ہمارے بعض بزرگوں نے کاغذ کی گولی بنا کر دی تو پیٹ درد سے تڑپنے والے مریض کو آرام آگیا ہم نے اس قسم کے ہزاروں قصے دیکھے ہیں۔غرض دعا بڑی ضروری ہے۔اب وہاں نائیجیریا گورنمنٹ کے ہسپتال میں وزیر صاحب کو آرام بھی ملتا ہوگا اور بھی کئی سہولتیں ان کو ملتی ہوں گی مثلاً دوائیاں اچھی ملتی ہوں گی اٹن شن (attention ) ہوتی ہوگی۔نرسنگ اچھی ہوتی ہوگی۔لیکن وہ دعا نہیں مل سکتی تھی جو ایک احمدیہ کلینک میں مل سکتی ہے۔اس لئے وہ وزیر صاحب اپنے ہسپتال کی بجائے ہمارے ہسپتال ہی جاتے ہیں۔اگر ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی رحمت سے اور اس کی دی ہوئی توفیق سے اپنے میڈیکل سنٹرز سے کمائیں تو وہاں ہم پندرہ سولہ نہیں بلکہ آٹھ دس سال میں سینکڑوں ہائر سیکنڈری سکول یعنی انٹرمیڈیٹ کالج کھول سکتے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ ہمیں اتنی رقم دے دے تو اور ہزار منصوبے کر سکتے ہیں ہم ہر جگہ قرآن کریم پہنچا سکتے ہیں۔غرض کام تو تھوڑا نہیں ہے یہ تو بڑا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جتنی طاقت آپ کو دی اس طاقت کو