خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 42
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۲ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب نقصان نہیں پہنچ سکتا کیونکہ اسلام کی زندگی کا انحصار خدائے حی و قیوم پہ ہے۔اس کے استحکام اور قیام کا انحصار خدائے حتی وقیوم کی طاقتوں پر ہے۔غرض یہ نعرہ تھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے موقع پر بڑے پیار کے ساتھ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بلند کیا اور اس پیار کے ساتھ بلند کیا جو آپ کے دل کے گوشہ گوشہ سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بہہ نکلا اور اس کے چشمے پھوٹ پڑے۔آج ہمارے دل بھی مجروح ہیں اور ہم ایک ایسے صدمہ سے دو چار ہوئے ہیں جس کا شاید عام انسانوں کے لیے برداشت کرنا ممکن نہ ہو۔ہمارا وہ محبوب ہمارا وہ آقا جس نے باون سال تک ہم پر غیر محدود احسان کئے جس نے باون سال تک ہمارے غموں میں شرکت کی جو باون سال تک ہمارا سہارا بنا رہا جس نے باون سال تک ہمیں علم قرآن سکھایا جس نے باون سال تک ہمیں خدا تعالیٰ کے چمکتے ہوئے نشان دکھائے جس نے باون سال تک ہمیں خدا تعالیٰ کی رضا کی جستجو کے لئے جن اعمال کی ضرورت تھی وہ بتائے جس نے اتنے لمبے عرصہ تک ہماری راہ نمائی کی ہماری پرورش کی ہماری تعلیم کا خیال رکھا ہمارے یتیموں کا سہارا بنا رہا ہماری بیواؤں کی اس طرح مدد کرتا رہا کہ ہم جو حاضر رہنے والے تھے ہمیں بھی معلوم نہیں ہوتا تھا کہ کون کون آپ کے احسانوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے ( کبھی اس کا ہمیں علم ہوتا تھا) پس اتنا لمبا عرصہ ساتھ رہنے والا پھر اتنی شفقت سے پیش آنے والا۔اتنا احسان کرنے والا اور اتنا بابرکت وجود کہ جب بھی جماعت پر کسی مخالف نے حملہ کیا اور ایسا حملہ کیا کہ ہم میں سے ہر ایک خیال کرنے لگا کہ شاید اب جماعت کا بچنا مشکل ہو وہ آگے آیا اور اس وقت جو تیر چلائے گئے وہ سارے اس نے اپنے سینے پر لیے۔جب ہم میں۔بہت سے سو رہے ہوتے تھے اسی خیال سے کہ ایک دل ہے جو ہمارے لیے تڑپ رہا ہے وہ واقعی ہمارے لئے تڑپ رہا ہوتا تھا اور اپنے رب سے عاجزی، خشوع، تذلل اور تواضع کے ساتھ یہ عرض کرتا تھا کہ اے میرے خدا یہ جماعت تیرے مسیح کا لگایا ہوا پودہ ہے اور کمزور ہے پھر غریب بھی ہے۔اور کم علم بھی۔لیکن اے خدا یہی وہ جماعت ہے جس نے تیرے محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کا نام دنیا کے کونے کونے میں پہنچانا ہے۔اگر آج دشمن انہیں تباہ کرنے میں کامیاب ہو جائے تو پھر تیرا ہ مقصد کیسے کامیاب ہو گا جو تو نے اس جماعت کے قیام کے وقت اپنے سامنے رکھا تھا۔ہووہ۔