خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 508
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۰۸ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب اور جیب سے نکالیں اور دس روپے خرچ کریں۔تو خدا تعالیٰ کے مقابلے میں تو ایک بندے کی حیثیت بلکہ جو ہمارے ذہن میں خدا ہے اس سے بھی کہیں کم حیثیت ہے انسان کی۔پس ایک باپ بچے کو جب کہتا ہے تو وہ خرچ کے لئے پیسے دے دیتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پیسے خرچ کرو تو کیا وہ پیسے نہیں دے گا ؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے میں نے دوستوں سے کہا کہ مجھے کوئی فکر نہیں ، پیسہ تو آئے گا ، نہ مجھے یہ فکر ہے کہ اُستاد کہاں سے آئیں گے اور ڈاکٹر کہاں سے آئیں گے۔مجھے انشاء اللہ استاد اور ڈاکٹر بھی ملیں گے لیکن جس چیز کی مجھے فکر ہے اور آپ کو بھی فکر کرنی چاہئے وہ یہ ہے کہ محض مالی قربانی ظاہر میں یا جانی قربانی وقف کے طور پر پیش کر دینا خدا تعالیٰ کے حضور کافی نہیں ہے انسان اپنے زور کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتوں کو حاصل نہیں کر سکتا۔نہ اپنی کسی قربانی کے نتیجہ میں پا سکتا ہے اللہ تعالیٰ آپ کی پیشکش کو مقبول کرے تو تب اللہ تعالیٰ کی رضا مل سکتی ہے اس کی مجھے بھی فکر ہے۔اور تمہیں بھی فکر ہے۔اس لئے دعائیں کیا کرو کہ اے اللہ ! ہم حقیر سی قربانی تیرے حضور پیش کر رہے ہیں تو اسے قبول فرما تا کہ تیری رضا کی جنت ہمیں مل جائے۔چنانچہ یہاں آکر میں نے اعلان کیا تو یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا رد عمل بڑا اچھا رہا ہے۔نصرت جہاں ریزروفنڈ کے جو وعدے ہیں وہ کم سے کم ایک لاکھ پاؤنڈ کا کہا گیا تھا نا ) تین لاکھ پاؤنڈ تک پہنچ گئے ہیں ( روپے نہیں میں کہہ رہا ) یعنی تین گنا زیادہ۔ویسے میرے اندر ہے عادت ہے اور بہتوں میں یہ عادت ہوگی کہ جس کو میں نے زیادہ دینا ہوتا ہے میں کہا کرتا ہوں تھوڑا تا کہ ہاتھ میں اصل نقد رقم زیادہ آ جائے تو وہ بہت زیادہ خوش ہو جاتا ہے پھر وہ تو اللہ تعالیٰ نے شاید پیار کا اظہار کرنا تھا۔کہا تھالا کھ پاؤنڈ اور دے دیئے تین چار لاکھ پونڈ۔انشاء اللہ اتنے جمع ہو جائیں گے۔اس وقت تک ۲۶ لاکھ ۳۶ ہزار روپے پاکستان کی جماعتوں کے وعدے ہیں اور 9 لاکھ ۶۳ ہزار روپے (اگر پاؤنڈ کو روپوں میں منتقل کیا جائے) باہر کے وعدے ہیں۔یہ کل ۴۶ لاکھ روپے کے وعدے بن جاتے ہیں۔ابھی وعدے انشاء اللہ اور بھی آجائیں گے۔اندرون پاکستان 9لاکھ ۳۰ ہزار چند مہینوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اللہ تعالیٰ نے جماعت پر جو رحمتیں کی ہیں ان کے نتیجہ میں نقد وصول ہو چکا ہے اور کل وصولی اندرون پاکستان اور بیرونِ پاکستان ملا کر ۶ الاکھ دو