خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 502 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 502

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۰۲ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب اسلام یہ کہتا ہے کہ ایک ظلم کو مٹا کر دوسراظلم نہیں کرنا ایک محرومی کو دور کر کے کسی دوسری جگہ محرومی پیدا نہیں کرنی۔دکھوں کا علاج کسی اور دُکھ کو پیدا کرنے سے نہیں کرنا بلکہ مقصد یہ ہے کہ انسان کے سارے دکھوں کا جو محرومی کے نتیجہ میں یعنی جو انسان نے خود اپنے لئے پیدا کئے ہیں ان دکھوں سے اُسے نجات دلائی جائے۔کتنا پیار کرنے والا ہے ہمارا رب ، اور کتنا محسن ہے ہمارا آقاصلی اللہ علیہ وسلم کہ آپ کی بعثت سے چودہ سو سال بعد ہم اپنے لئے خود اپنے ہاتھوں سے دکھ پیدا کر رہے تھے مگر آپ جو خدا کے محبوب اور ہمارے محبوب اور اللہ تعالیٰ سے پیار کرنے والے اور ہم سے بے اختیار پیار کرنے والے تھے وہ ہمارے ہاتھوں سے پیدا کردہ دکھوں کو دور کرنے کی تعلیم دے رہے ہیں۔پس اسلام تو دُنیا کے دُکھ کو مٹانا چاہتا ہے اور یہ دکھ اور درد اور مصیبت وہ ہے جو انسان کے خود اپنے ہاتھ سے پیدا کی جاتی ہے لیکن جو حوادث زمانہ ابتلاء اور امتحان کے طور پر آتے ہیں دراصل ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے۔میں ایک بات مختصر ابتا دوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر کسی نے یہ اعتراض کیا کہ انبیاء اور دوسرے مقربین الہی کو دُکھ کیوں پہنچتا ہے آپ نے اس کا بڑا ہی حسین جواب دیا ہے آپ نے فرمایا تم کہتے ہو ان کو دکھ پہنچتے ہیں اُن سے تو جا کر پوچھو وہ ان کو دکھ سمجھتے ہیں یا وہ راحت سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو زخم لگتا ہے ، وہ اس کے پیارے بندے کے لئے راحت کا باعث بنتا ہے دُکھ کا باعث تو نہیں بن سکتا۔بہر حال اس وقت میں اس تفصیل میں تو نہیں جا ر ہا لیکن جو انسان نے اپنے ہاتھ سے دُکھ اور تکلیف پیدا کی ہے دوسرے کو لوٹا ، چوری کی ، غصب کیا ، حاکم بن کر آیا اور قرآن کی رو سے اِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوْا اَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَةً وَكَذَلِكَ : يَفْعَلُونَ (النمل: ۳۸) اس پروگرام اور پالیسی پر عمل کیا عزتیں دی نہیں بلکہ عزتیں چھین لیں۔لیکن جب اسلام یہ کہتا ہے کہ میں شرف انسانی کو قائم کروں گا تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ جو اس وقت معزز ہیں ان کو ذلیل کر دوں گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ میں سب کو جو اس وقت جھوٹی عزتوں میں محو ہیں ان کو