خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 486 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 486

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) میں ملبوس ہو خواہ چیتھڑوں میں لپٹا ہوا ہو۔۴۸۶ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب مساوات کا عظیم نعرہ بھی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لگایا ہے سو چو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا وجود کہ جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا۔لَوْلَاكَ لِمَا خَلَقْت الافلاک ( موضوعات کبیر زیر حرف لام ) اے رسول !! تیری یہ شان ہے کہ اگر میں تجھے پیدا نہ کرنا چاہتا تو اس دُنیا کو نہ پیدا کرتا۔پھر میں نے اس دُنیا کو کیوں پیدا کرنا تھا؟ میں نے تیری خاطر اس عالمین کو پیدا کیا ہے۔اس افلاک کو ا کیا ہے۔زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے آپ کا پاک اور مطہر وجود مبتداء ہے مزدور کا بھی اور انبیاء کا بھی سب اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوتے ہیں۔( یہ محاورہ ہے ویسے تو ہاتھ جوڑنے کی ہمیں تعلیم نہیں دی گئی۔لیکن سمجھانے کے لئے میں نے یہ محارہ استعمال کیا ہے۔) ہم سب اس کے سامنے پیار سے جھکتے ہیں اس پر درود بھیجتے ہیں۔درود بھیجنے میں بھی غریب۔اور سب سے بڑے نبی کا ( آپ کے بعد جو ہیں ) ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ایسے پاک و مطہر اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس قدر معزز اور محبوب وجود کے منہ سے دنیا کو مخاطب کر کے یہ اعلان کروایا۔قلی ساری دُنیا میں یہ اعلان کر إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ (الكهف: ) کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں ہے میں تمہاری طرح ایک بشر اور تم میری طرح ایک بشر ہو آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی کا مطالعہ کریں آپ کو کہیں فرق نظر نہیں آئے گا۔حج کے موقع پر روسائے قریش اپنے لئے بعض امتیازی نشان قائم کیا کرتے تھے مثلاً اچھی جگہوں پر خیمے لگا لیتے۔آپ کے صحابہ کے دماغ میں یہ پرانی بات تھی۔انہوں نے آہستہ آہستہ تربیت حاصل کی تھی۔کسی کے منہ سے نکل گیا کہ آپ کے لئے خاص جگہ خیمہ لگتا ہے فرمایا بالکل نہیں۔جو لوگ پہلے آگئے ہیں انہوں نے اپنا حق لے لیا ہے جو بعد میں آئے ہیں انہیں جہاں جگہ ملی وہاں خیمے لگائیں گے۔غرض زندگی کے کسی شعبہ کو لے لیں۔آپ نے کوئی امتیاز روا نہیں رکھا۔یہ امتیاز نہیں ہے ( اگر کوئی عیسائی یہ اعتراض کر دے گا ) کہ نماز میں سب سے آگے کھڑے ہوتے ہیں نماز میں امام نے تو بہر حال آگے کھڑے ہونا ہے۔وہ جو امام آگے کھڑا ہوتا ہے وہ بشر کی حیثیت سے نہیں کھڑا ہوتا بلکہ وہ امام کی حیثیت سے کھڑا ہوتا ہے وہاں یہ سوال نہیں ہوتا کہ بشر بشر میں کوئی فرق کرنا ہے