خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 482
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۸۲ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب ہیں۔اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر کوئی بزرگ بھی ایسا نہیں پیدا ہوا جسے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سلام کے لئے منتخب کیا ہو یہ ایک بڑا فرق ہے۔پس اُس زمانے سے لے کر آج تک اور پھر قیامت تک حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فیوض کا سمندر ٹھاٹیں مار رہا ہے۔وہ نہ مکان کو دیکھتا ہے اور نہ زمانے کو دیکھتا ہے وہ جو عالمین کے لئے رحمت بن کر آیا وہ ہر ایک کے پاس پہنچا اور انہیں محبت اور پیار کے ساتھ گلے لگایا اور خدا تعالیٰ کے قرب کی راہیں اُن کے اوپر کھول دیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ اس قدر عظیم کام کیسے کیا گیا ؟ اس کے لئے کیا وسائل اور ذرائع اختیار کئے گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں عالمین کے لئے ظاہر ہوتی ہے وہ عالمین تک پہنچ جائے۔اس کا بھی تو اللہ تعالیٰ نے انتظام کرنا تھا۔وہ کون سی قو تیں تھیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس غرض کے حصول کے لئے دی گئیں اور فطرت کے وہ کون سے تقاضے تھے جو اس لئے پیدا کئے گئے کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ جب اُس رنگ یا اس رنگ میں جلوہ دکھائے تو انسانی فطرت اُسے قبول کر لے۔اس جلسہ کے لئے میں نے بہت سا کچھ سوچا تھا اور بہت سے حوالے جمع کئے تھے لیکن جس کو انگریزی میں melting point کہتے ہیں وہ سارا مضمون غیر معین طور پر میرے دماغ میں چکر لگا رہا تھا۔اپنی شکل نہیں اختیار کر رہا تھا۔پھر اللہ تعالیٰ بڑا پیار کرتا ہے۔وہ بڑا پیار کرنے والا ہے۔گزشتہ رات کو ایک وقت میں اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا (ویسے الہاما نہیں بلکہ میرے دل میں ڈالا ) اور اس سے ایک واضح شکل میرے سامنے آ گئی اور اس کے مطابق میں آپ سے ا۔بات کر رہا ہوں۔ہمارے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وہ کون سے ذرائع بتائے گئے ہیں جن کے نتیجہ میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت ملک ملک ، شہر شہر، قریہ قریہ، گاؤں گاؤں اور گلی گلی پہنچ گئی۔اس مادی دنیا میں کوئی وسیلہ ہونا چاہئے اور اس مادی دنیا میں جو لوگ رہتے ہیں ان کی طبیعت اور فطرت کے مطابق ہونا چاہئے ورنہ تو خالی رحمة للعالمین کہہ دینا کافی نہیں ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو پہلے انبیاء گزرے ہیں کہنے والے تو ان کے حق میں مبالغہ کرتے ہوئے کچھ کا کچھ کہہ جاتے ہیں مگر نتیجہ