خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 480
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۸۰ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب ایک جگہ بڑے ہی لطیف پیرایہ میں یوں بیان فرمایا ہے۔کسی عیسائی نے پوچھا کہ آپ کس غرض کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔جواب میں آپ نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس لیے مبعوث فرما ہے کہ میں اس صلیب کو دلائل کے ساتھ تو ڑ دوں جس صلیب نے حضرت مسیح کی ہڈیوں کو توڑا اور زخمی کیا تھا۔بحارالانوار کی جو میں نے حدیث پڑھی تھی اس کے آگے وہ لکھتے ہیں کہ ابن عباس نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کی ہے کہ کسر صلیب کا تعلق مہدی سے ہے اور مہدی صلیب کو توڑے گا اور اللہ تعالیٰ کے دین کو تمام دینوں پر غالب کرے گا۔اگر چہ مشرک اسے پسند نہ کریں۔غرض بحار الانوار نے کسر صلیب اور قتل خنزیر کی حدیث کو آیہ کریمہ که لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِهِ وَلَوْكَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (الصف:۱۰) کی تفسیر قرار دیا ہے۔جیسا کہ میں نے متعدد بار بتایا ہے چونکہ قرآن کریم ایک کامل اور مکمل کتاب ہے اس لئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد ایسا نہیں جو قرآن کریم سے باہر ہو آپ کا ہر ارشاد اور ہر قول قرآن کریم کی کسی نہ کسی آیت کی تفسیر ہے۔اگر آپ ایک بات کے متعلق بھی غلط طور پر یہ مجھنے لگیں کہ آپ نے قرآن کریم سے کوئی زائد بات کی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ اس حد تک آپ نے قرآن کریم کو غیر کامل قرار دے دیا لیکن چونکہ قرآن کریم کس ایک کامل اور مکمل کتاب ہے اس لئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے ارشادات اور اقوال قرآن کی تفسیر ہیں خواہ ہمیں ان کی سمجھ آئے یا نہ آئے۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض دفعہ مدتوں یعنی سال دو سال تک ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کوئی عبارت پڑھتے رہتے ہیں یا کوئی حدیث یا تفسیر پڑھی ہوتی ہے لیکن سمجھ نہیں آ رہی ہوتی کہ اس کا قرآن کریم کی کس آیت کے ساتھ تعلق ہے لیکن پھر اللہ تعالیٰ فضل کرتا ہے اور اس کا مضمون ذہن میں آجاتا ہے اور معلوم ہو جاتا ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے وہ فلاں آیت کی تفسیر ہے۔پس یہ تو اصولی طور پر انسان کا دماغ یہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ بھی قرآن کریم سے زائد کہا ہو۔یہ ہوہی نہیں سکتا۔یہ بالکل ناممکن بات ہے۔اسی واسطے