خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 479
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۷۹ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب یہ جو پہلے حوالے ہیں یا اب حوالے ہیں ان کی تفصیل میں میں اس لئے جانا نہیں چاہتا کہ میں اس بات کو بطور تمہید کے بیان کر رہا ہوں۔ایک دو حوالے میں بتا بھی دیتا ہوں تا کہ بعض جستجو کر۔والے دل جو ہیں ان کی تسلی بھی ہو جائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔جس کامل انسان پر قرآن شریف نازل ہوا اس کی نظر محدود نہ تھی اور اس کی عام غم خواری اور ہمدردی میں کچھ قصور نہ تھا بلکہ کیا باعتبار زمان اور کیا باعتبار مکان اس کے نفس کے اندر کامل ہمدردی موجود تھی اس لئے قدرت کی تجلیات کا پورا اور کامل حصہ اس کو ملا اور وہ خاتم الانبیاء بنے۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد نمبر ۲۲ صفحه ۲۹) ہماری جامع البیان عربی کی مشہور تفسیر ہے۔اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى 66 الدِّينِ كُلِّم کے معنے یہ ہیں کہ لیظهر دينه الحق الذي ارسل به رسوله علی کل دین سواه و ذلك عند نزول عیسی ابن مریم و حين تصير الملة واحدة فلا يكون دين غير الاسلام 66 ( جامع البیان فی تفسیر القرآن جلد ۲۸ صفحه ۸۸ زیرتفسیر سورة الصف آيت هو الذي ارسل رسوله۔۔۔۔۔۔یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کے ساتھ یہ وعدہ پورا ہو گا کہ تمام بنی نوع انسان ایک وجود بن جائیں ایک ملت واحدہ بن جائیں۔بحارالانوار جو شیعہ حضرات کی کتاب ہے اس میں لکھا ہے کہ ابن مریم جو حکم اور عدل بن کر آئے گا اس کی بعثت کا مقصد یہ ہے کہ وہ صلیب کو توڑے گا۔( بحارالانوار جلد ۵۲ صفحه ۳۸۴/۳۸۳) انہوں نے یہ کیف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم و امامکم منکم ( حدیث دی ہے اور یہ حدیث بخاری میں بھی موجود ہے۔بخاری کی دو مشہور شرحیں ہیں۔ایک عینی کی اور دوسری فتح الباری۔عینی کی شرح بخاری میں یہ لکھا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ کسر صلیب سے مراد نصاری کے جھوٹ اور بطلان کا اظہار ہے یعنی ہر شخص کو بتا دیا جائے گا اور ان کے ذہن نشین کرا دیا جائے گا کہ جو عقائد نزول مسیح محمدی کے وقت نصاری کے ہیں وہ درست نہیں ہیں بلکہ باطل ہیں۔فتح الباری میں لکھا ہے :۔اى يبطل دين النصرانية ( فتح الباری جلد ۶ کتاب الانبیاء باب نزول عیسی علیہ السلام صفحہ ۴۹۱) کہ وہ عیسائی مذہب کو باطل قرار دے گا اور اس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام۔