خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 475 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 475

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۷۵ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنی نوع انسان اور ہر زمانہ کے لئے رحمت بن کر مبعوث ہوئے اختتامی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات تلاوت فرمائیں: وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبياء : ١٠٨) وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّلِمِينَ إِلَّا خَسَارًا پھر حضور انور نے فرمایا:۔(بنی اسراءیل : ۸۳) ہمارے محبوب ! ہمارے آقا! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام بنی نوع انسان کے لئے اور ہر زمانہ کے لئے رحمت بن کر مبعوث ہوئے تھے۔اس لئے آپ کی نظر محدود نہیں تھی۔آپ کی توجہ محدود نہیں تھی۔آپ کی دعائیں کسی خاص قوم یا زمانہ تک محدود نہیں تھیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام مکان کے لحاظ سے ان حدود سے باہر نہ دیکھ سکے، جن حدود کے اندر بنی اسرائیل قیام کرتے تھے اور نہ اس زمانہ سے پرے ان کی نگاہ جاسکی جس زمانہ سے یا جس وقت سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوئے۔آپ کے زمانہ سے ورے دورے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نظر رہی۔مگر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عالمین کے لئے رحمت بن کر آئے تھے۔انسان کے زمین پر پیدا ہونے سے قبل، بلکہ جب سے کہ یہ عالم بنا اس وقت سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض جاریہ دوسری مخلوق پر بھی اپنا اثر کر رہے تھے، اُن پر بھی برکتیں نازل کر رہے تھے۔کیونکہ دوسری ساری مخلوق انسان کے لئے بنائی گئی تھی۔یہ چاند یہ سورج یہ ستارے اور ستاروں کا یہ خاندان اور جو کچھ اس عالمین میں ہے وہ اس لئے بنا کہ اس زمین پر اچھے نیک اور مفید اثر ڈالے