خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 473 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 473

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۷۳ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطاب کروں گا اور ان سے نہ ملوں گا۔میں اس رنگ میں بھی غصے کا اظہار کر سکتا ہوں اور بعض دفعہ کیا کرتا ہوں لیکن میری خواہش یہ ہے اور اُسی کے لئے جماعت کو پیدا کیا گیا ہے اور یہی حقیقی ذمہ داری ہے جو ان کمزور کندھوں پر ڈالی گئی ہے کہ جماعت میں زیادہ سے زیادہ قرآن کریم کی تعلیم کو پھیلایا جائے اور زیادہ سے زیادہ ہمارے بھائی اور بہنیں قرآن کریم سے واقف ہوں۔محض ترجمہ بھی کافی نہیں، محض پرانی تفسیروں کو تھوڑا سا پڑھ لینا کافی نہیں۔بعض دفعہ جب پوری توجہ ہو تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک صفحہ بھی پڑھنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس لئے کہ اُس صفحے میں دوسو نیا مضمون دماغ میں آجاتا ہے۔ہر سطر میں دو دو مضمون ہوتے ہیں۔عجیب انسان تھے۔اصل ، اصل شاگرد تھے۔کتابیں پڑھ کر ہمارا ذہن ایک اور فیصلہ کرتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی اور بچے اور اصل شاگر د حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی تھے۔دوسری کتابوں سے مقابلہ کر کے دیکھ لیں۔میں صبح اٹھا ہوں تو میری طبعیت میں کچھ کمزوری تھی۔دراصل نومبر میں میں بہت بیمار رہا ت پہلے فلو اور پھر نقرس کا حملہ ہوا۔اللہ نے فضل کیا۔پرسوں تو میری صحت اتنی اچھی تھی کہ میں سمجھتا تھا بہت ہی اچھی ہے لیکن یہ کمزوری کوفت کا اثر ہے۔اب ایک حصہ رہ گیا ہے۔میرے دماغ نے فیصلہ کیا تھا کہ یا آج کہہ جاؤں گا یا کل کی تقریر میں اس کا حصہ بنالوں گا۔اللہ تعالیٰ کی منشاء یہی معلوم ہوتی ہے کہ کل کی تقریر کا حصہ بنالیا جائے۔(رجسٹر خطابات ناصر غیر مطبوعہ )