خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 455
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۵۵ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطا۔ہماری جماعت کے اندر بھی اور جہاں تک ہو سکے باہر بھی محروم نہ رہے لیکن ہم اپنی خواہش کو یا جو حق ہے اس کا ، وہ پورا نہیں کر سکتے۔حق کہا ہے اسلام نے ، یہ نہیں کہا کہ یہ کوئی حقیری ہستی ہے اور تم اس کے اوپر احسان جتاؤ۔اسلام نے کہا کہ اس کا حق دو اور تم نے احسان نہیں لینا ، شکر بھی وصول نہیں کرنا۔لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاء وَلَا شُكُورًا ( الدهر : ۱۰) کتنا پیارا فقرہ ہے جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔کہاں ہے وہ شریعت جو اس قسم کا حسین اور مؤثر فقرہ اپنی کتاب میں نکالے نہیں، کہیں نہیں۔یہ اعلان کرنا کہ تمہارا حق دے رہے ہیں نہ شکر چاہتے ہیں نہ اس کا بدلہ چاہتے ہیں۔یہ ایک عظیم اعلان تھا جو کیا گیا لیکن اُتنے ہی غافل ہم ثابت ہوئے اور بھول گئے۔اللہ نے فرمایا کہ تمہاری عزت اور شرف کے لئے ہم نے قرآن کریم کو نازل کیا ہے اور ہم اسے ہی بھول گئے۔ایک پھٹے پرانے کپڑوں میں آ گیا اور اس پر حقارت کی نگاہ ڈال دی۔یہ ویسے ایک لمبا مضمون ہے جہاں تک ہو سکا کل میں اس کے اندر جاؤں گا۔انشاء اللہ۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں یہ توفیق دی اور ہم پر یہ انعام کیا کہ ہم ایک حد تک حقوق کی ادائیگی کر سکیں۔اس کی شکل یہ بنی صدرا انجمن احمد یہ تحریک جدید اور وقف جدید نے گیارہ سو ترانوے (۱۱۹۳) خاندانوں کے پانچ ہزار دو سو پچپیس (۵۲۲۵) افراد کی بصورت گندم وغیر ۱۵۴۶۷۹۰ روپے کی امداد کی۔ایک لاکھ چون ہزار چھ سو اور کچھ روپے اور سو (۱۰۰) لحاف تقسیم کئے گئے۔ویسے اس کا بڑا حصہ ایک تو وہ ہے جو ہماری بہنیں بیوہ ہیں اور ان کے یتیم بچے ہیں۔کم از کم ان کو گندم ملنی چاہیے۔بھوکا تو کسی کو نہیں رہنا چاہیے۔ہمارے ملک کی تو اکثریت ہی چٹنی اور گڑ اور اچار کے ساتھ روٹی کھانے والی ہے۔کم از کم وہ تو دے دو جو ہمارا کم سے کم معیار پیٹ بھرنے کا ہے۔اس سے زیادہ بھوکا تو نہ رکھو۔ہم یہ کوشش کرتے ہیں کہ جہاں بھی ہماری نظر پڑ جائے ہم اتنی گندم اس گھر میں دے دیتے ہیں کہ وہ گھر آٹے کے لحاظ سے سارے سال کا کفیل ہو جاتا ہے۔مثلاً انجمن کے کارکن ہیں۔ان میں سے ایک شخص ہے وہ تین آدمی ہیں۔دومیاں بیوی اور ایک بچہ ہے۔تین کھانے والے ہوئے۔تین پیٹ ہیں جن کو ہم نے بھرنا ہے۔ان کو سارے