خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 454
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۵۴ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطار جاتے ہیں پھر وہ سنبھال نہیں سکتے اور گھاٹا اٹھاتے ہیں۔پس قوت اور استعداد کی تقسیم کے نتیجے میں مال اور دولت کی جو تقسیم ہوئی وہ تو انسان کے ہاتھ میں نہیں کیونکہ قوت اور استعداد انسان نہیں دے سکتا۔اگر کوئی باپ یہ حکم دے اس بچے کو جو اپنی ماں کے پیٹ میں ہے کہ او بیٹا! ایسا دماغ لے کر آنا کہ بڑے اچھے ڈاکٹر بنو۔میں تمہیں ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں ، تو وہ ڈاکٹر نہیں بنے گا۔وہ تو انسان کا کام ہی نہیں ہے۔پھر اسی خواہش میں وہ آجاتے ہیں۔میں بھی پرنسپل رہا ہوں آکر بڑا تنگ کرتے ہیں ”جی نمبر تے ایس نے دو سو نوے لے مر کے ہو یا اے پاس پر ہے بڑا ہوشیار، ایس نوں اسیں ڈاکٹر بنانا ایں ( یعنی نمبر تو اس نے دو سونوے لئے ہیں اور بڑی مشکل سے پاس ہوا ہے لیکن ہے بڑا لائق۔ہم نے اسے ڈاکٹر بنانا ہے )۔وہ اس طرح تو ڈاکٹر نہیں بن سکتا۔یہ قوت اور استعداد ڈاکٹر بننے کی یہ میں نے اور آپ نے نہیں دینی یہ اللہ تعالیٰ نے دینی ہے۔اسی واسطے قرآن کریم میں کہا کہ تم ہو جو مال کو تقسیم کرتے ہو یا ہم ہیں مال تقسیم کرنے والے۔کئی ایک کو سمجھ نہیں آتی لیکن یہ جو میں نے مثال دی ہے اس سے ہر شخص سمجھ جائے گا کہ قوتوں اور استعدادوں کی جو عطا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اس کے نتیجے میں اموال و دولت کی جو ملکیت ہے اس میں فرق پڑ جاتا ہے۔ایک شخص ہے وہ ماہر ڈاکٹر ہے۔پھر یہ برکت ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے ہاتھ میں برکت ڈال دیتا ہے وہ ایک معمولی نسخہ لکھتا ہے مریض کو شفا ہو جاتی ہے۔ہمارے ماموں جان حضرت میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ عنہ جماعت کے بڑے بزرگ تھے۔فوت ہو چکے ہیں۔ڈاکٹر تھے ، سول سرجن تھے نسخہ لکھتے تھے جس سے مریض اچھا ہو جاتا تھا۔آخری عمر میں کچھ کمزور ہو گئے تھے اور بیمار رہنے لگے۔مریض آتا تھا پیسے والا اور بڑی فیس دینے والا۔یہ کہتے تھے میں بیمار ہوں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا۔میرے کمپاؤنڈ ر کو لے جاؤ نسخہ میرے والا لکھ کر دے گا۔وہ آگے سے جواب میں کہتے تھے۔آپ کا کمپاؤنڈر ، نسخہ بھی آپ کا۔آپ لکھیں گے تو آرام آئے گا ورنہ ہمارا تجربہ یہ ہے کہ آرام نہیں آتا۔یہ اللہ تعالیٰ کی برکت ہے جو انسان تقسیم نہیں کر سکتا۔پس یہ فرق تو موجود ہے۔ہم ایک غریب جماعت ہیں۔ہم اپنی طاقت کے مطابق یہ کوشش کرتے ہیں کہ کوئی شخص