خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 453 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 453

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۵۳ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطار زندگی کے جو لمحے ہم ایک سال میں گزارتے ہیں وہ محدود ہیں لیکن نعمتیں غیر محدود ہیں۔جو چیز غیر محدود ہے اس کا شکر محدود سے کیسے کیا جا سکے۔ناممکن ہے لیکن خدا نے ہمیں تسلی دے دی ہے لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة: (۲۸) که جتنی وسعت ہے اس کے مطابق کر دو زیادہ پر میں گرفت نہیں کروں گا۔میں بڑا پیار کرنے والا ہوں۔اس وقت جو چند نعمتیں میں لیتا ہوں وہ بھی بالکل ہی چند ہیں۔نعمتیں تو بے شمار اور غیر محدود ہیں۔جو محدود حصے ان میں سے ہم لے سکتے ہیں وہ بھی سارے یہاں بیان نہیں ہو سکتے تھوڑا سا وقت ہے اور تھوڑے سے وقت میں کس کس چیز کا ہم نام لیں اور کیا بیان کریں۔مختصر ا میں بیان کر دیا کرتا ہوں اور اس سلسلہ میں اب میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کولوں گا اس وضاحت کے ساتھ کہ دعائیں کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو شکر گزار بندے بنائے اور یہ دعا کرتے رہیں کہ پہلے سے زیادہ نعمتیں وہ ہم پر نازل کرے۔ہمارا ہر قدم پہلے سے زیادہ تیزی کے ساتھ آگے بڑھنے والا ہو، تاکہ ہم منزل مقصود سے قریب سے قریب تر ہوتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ نے ہم پہ جونعمتیں نازل کی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ رزق کی تقسیم بھی میں ہی کیا کرتا ہوں کہ ایک رزق کی تقسیم تو رزق کمانے کی اہلیت کے نتیجہ میں ہوتی ہے اور وہ انسان کے اختیار میں بات نہیں۔ایک شخص کو اللہ بڑا تجارتی دماغ دے دیتا ہے۔وہ ایک سودے میں ایک لاکھ روپے کما لیتا ہے۔جیسے غالباً سعد بن ابی وقاص ہی تھے ؟ انہوں نے کمایا۔جب اسلام ساری دنیا میں غالب آ گیا تھا۔اس وقت کی نون (Known) دنیا کہنا چاہئے کہ بڑے حصے میں پھیل گیا تھا اور بڑے مال آگئے تھے۔انہوں نے ایک منڈی میں ایک سودے میں ایک لاکھ اونٹ خریدا۔پس سمجھ لو کہ کتنی دولت مدینے اکٹھی ہو گئی ہوگی۔ایک دوست آیا، اس نے کہا میرے پاس بیچ دو۔میرا خیال ہے باہر سے لاکھ اونٹ آئے ہوں گے تو ان کو خیال ہوا ہوگا میں اس کی تجارت کروں گا۔انہوں نے کہا لے لو۔اس میں کیا فرق پڑتا ہے میں تم سے اور نفع نہیں لیتا ہر اونٹ کی نکیل مجھے دے دو۔اگر اٹھنی نکیل کی قیمت سمجھی جائے تو پچاس ہزار، اگر روپیہ بھی جائے تو ایک لاکھ روپیہ ایک سودے کے اندر صرف نکیل لے کر انہوں نے کما لیا۔کوئی ایسا بھی آتا ہے کہ ذہن تجارتی نہیں ہوتا۔ہمیں بھی خط لکھتے ہیں ، شوق میں تجارت میں پڑ