خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 451
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۵۱ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطاب پتہ لگنا چاہئے کہ وہ ابدی حیات والا زندہ نبی جس طرح چودہ سو سال پہلے زندہ تھا آج بھی زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا۔اس موقع پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ اور مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے علم انعامی تقسیم کرنے کے لئے عرض کیا گیا تو حضور نے فرمایا:۔کچھ علم میں انعام کے طور پر دیا کرتا ہوں۔اس تعارف کتب کے بعد میں علم اور کچھ اسناد دے دیتا ہوں۔اس کے بعد امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت اپنے دست مبارک سے مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ اور مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے علم انعامی اور دوران سال کارکردگی میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی مجالس کو اسناد عطا فرمائیں۔مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کا علم انعامی مجلس خدام الاحمدیہ ڈرگ روڈ کراچی اور مجلس انصار اللہ لا ہور کو حاصل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔بعد ازاں حضور پر نور نے درج ذیل آیات تلاوت فرمائیں :۔وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً (لقمن: ٢١) وَ اِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ اللهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمُ (النَّحل : ١٩) اِعْمَلُوا آلَ دَاوُدَ شُكْرًا ( سبا : ١٤) اعْمَلُوا آلَ دَاوُدَ شُكْرًا کی تلاوت حضرت امیر المومنین نے دومرتبہ فرمائی) وَاذْتَاذَنَ رَبُّكُمْ لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَبِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (ابرهيم : ٨) پھر حضور انور نے فرمایا:۔ان آیات کا میں مفہوم ہی بتاؤں گا۔اللہ تعالیٰ کی نعمتیں جس کثرت سے انسان پر نازل ہوتی ہیں ان کا شمار تو ممکن ہی نہیں۔وہ اپنے ان بندوں کے لئے بھی جو پیدا کرنے والے رب کی شناخت سے محروم ہوتے ہیں اپنی نعمتوں کو موسلا دھار بارش کی طرح نازل کرتا ہے اور اپنی رحمتوں سے انہیں نوازتا ہے لیکن اس نوازش میں کتے ، بلیاں ، جانور، پتھر وغیرہ وغیرہ اور انسان سب شامل ہیں۔اس طرح اسے اس طرف بھی متوجہ کیا جاتا ہے کہ دیکھ جس طرح ان نعمتوں میں