خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 427 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 427

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۲۷ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب جو کیفیت ہم ربوہ میں رہنے والوں کے دلوں کی جلسہ کے آخری دن ہوتی ہے اس کا اندازہ باہر سے آنے والے ہمارے عزیز بھائی نہیں کر سکتے۔دوسروں کی بھی یہی کیفیت ہوگی لیکن میری اپنی جو حالت رہتی ہے اس کا ایک حصہ میں نے بتایا تھا کہ جب آپ جلسہ پر آنے کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں تو اس وقت بھی میں پریشان ہوتا ہوں کہ کوئی شیطانی رخنہ آپ کو جلسہ میں شمولیت سے روک نہ دے۔جب آپ آرہے ہوتے ہیں تو چونکہ انسانی زندگی اور سفر میں سینکڑوں قسم کی تکالیف اور حادثات لگے ہوئے ہیں اس کے لئے میں بڑا بے چین رہتا ہوں اور تکلیف میں رہتا ہوں۔میں اپنے رب سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی آپ کا حافظ و ناصر ہو اور وہ ہر قسم کی تکلیف اور دکھ اور آفت اور حادثہ سے آپ کو محفوظ رکھے۔پھر آپ یہاں آ جاتے ہیں تو پھر یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ کہیں ہمارے رضا کار بھائیوں میں سے کوئی شخص غفلت اور نادانی کے نتیجہ میں کسی آنے والے دوست کی تکلیف کا باعث نہ بن جائے۔پھر یہ فکر ہوتی ہے کہ آپ کے اپنے نفوس آپ کے لئے تکالیف اور آفات کا سامان نہ پیدا کر رہے ہوں۔اس جلسہ کے ایام کو اللہ تعالیٰ نے بڑا ہی بابرکت بنایا ہے اور اگر ہم چاہیں اور اگر ہم ارادہ کریں اور اگر ہم اس کے لئے کوشش کریں اور اگر ہم اس کے حصول کے لئے دعائیں کریں اور اگر اللہ تعالیٰ ہماری کوشش اور دعا کو قبول فرمالے تو بے انتہا برکات کو لے کر ہم اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکتے ہیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے اپنے نفسوں کی کوئی کمزوری ان برکات سے ہمیں محروم کرنے والی ہو۔اس کے لئے میں دعاؤں میں لگا رہتا ہوں۔پھر آپ کے جانے کا وقت قریب آتا ہے تو آپ کو بھی یہ دن گذرتے معلوم نہ ہوتے ہوں گے لیکن کام کی کثرت کے نتیجہ میں تو میرے لئے ایک گھنٹہ پہلے اور تین دن پہلے کی صبح کا تصور کرنا مشکل ہے۔میرے لئے تو وہ ایسا ہی ہے جیسے وہ دونوں حالتیں ایک ہی وقت میں ہوگئی تھیں یعنی پرسوں صبح پہلے دن کی ابتداء اور آج ایک گھنٹہ پہلے کی جو حالت ہے اس میں مجھے وقت کا احساس نہیں۔پس اس طرح معلوم ہوتا ہے۔آپ آئے۔آپ ہم سے ملے۔آپ کی وجہ سے ہم نے بہت سی خوشیاں اور برکات حاصل کیں اور اب آپ ہمیں اداس چھوڑ کر واپس جارہے ہیں جہاں بھی آپ ہوں۔جس حالت میں بھی آپ ہوں۔سفر و حضر میں بھی اور دوسرے حالات میں بھی