خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 428 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 428

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۲۸ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب اللہ تعالیٰ خود ہی آپ کا حافظ ہو۔آپ کا ناصر ہو۔اللہ تعالیٰ کے فرشتے آئیں اور ہر شر سے آپ کو بچائیں۔خدا تعالیٰ آسمان سے اپنے فرشتوں کو بھیجے اور آپ کے دل اور آپ کے سینہ اور آپ کے دماغ اور آپ کی روح کو اپنے نور سے معمور کر دے۔خدا تعالیٰ کے فرشتے آئیں اور آپ کے دلوں میں اس کی ذاتی محبت کو پیدا کریں۔اللہ تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے نازل ہوں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیار آپ کے سینہ میں بھر دیں۔ایک آگ آپ کے جسموں میں لگا دیں اور دنیا سے کلی طور پر منقطع ہو کر اپنے رب کی طرف آپ ایک روحانی حرکت میں آجائیں تا ہمارا وہ مقصود حاصل ہو جس کے حصول کے لئے ہم پیدا کئے گئے تا جماعت احمدیہ کا وہ مقصد حاصل ہو جس مقصد کے حصول کے لئے جماعت کو قائم کیا گیا ہے۔آپ بھی دعائیں کرتے رہیں ہم بھی دعائیں کرتے رہیں گے اپنی ان دعاؤں میں وسعہ پیدا کریں۔سورۃ فاتحہ میں ہمیں جمع کے صیغہ سے دعا سکھائی گئی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اس میں یہ حکمت ہے کہ ہمیں کہا گیا ہے کہ تم اکیلے کوئی چیز نہیں ساری دنیا کو اپنی دعاؤں میں شامل کرو تا کہ وہ خدا جو ساری دنیا پر اپنی ربوبیت سے اپنی رحمتوں کا سایہ کئے ہوئے ہے وہ اپنی رحمتوں سے تمہیں بھی حصہ دے بہت سی ترقیات روحانی دنیا کے ماحول پر منحصر ہوتی ہیں اگر آج دنیا کی اکثریت مثلاً احمدی ہو جائے اور اسلام لے آئے اور آج دنیا کے اموال اسی طرح خدائے واحد یگانہ کے نام کو بلند کرنے کے لئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دلوں میں پیدا کرنے کے لئے خدا کے حضور پیش کئے جائیں جس طرح شیطان کے حضور دجل کو پھیلانے کے لئے آج اموال اور دولت کے ڈھیر پیش کئے جاتے ہیں تو ہمیں اللہ تعالیٰ کے اور زیادہ فضلوں کا وارث بنے کی توفیق مل جائے۔ساری دنیا کے لئے دعائیں کریں۔آپ کے بھائی ہیں اللہ تعالیٰ نے سب کا آپ کے ساتھ اخوت کا رشتہ قائم کیا ہے کسی سے دشمنی کو خدا نے جائز قرار نہیں دیا۔ہم بدی کے دشمن ہیں لیکن ہم بد کے دشمن نہیں ہیں۔ہم ناپاکی کے دشمن ہیں لیکن ہم نا پاک کے دشمن نہیں ہیں۔ہم ایک غافل انسان کے دشمن نہیں لیکن ہم اس کی غفلت کے دشمن ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کی ناپاکی پاکیزگی سے بدل جائے اس کا گند نیکی میں متغیر ہو جائے نیکی کا چولہ پہن لے۔اس کے اندھیرے نور کی شکل میں اس کے اپنے لئے اور دنیا کے لئے ظاہر ہوں اور اللہ تعالیٰ کی