خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 425
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۲۵ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب باتوں کو ہدایت کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نَصِيبًا مِنَ الْكِتبِ انہیں ملا تھا اس کی طرف وہ توجہ نہیں دیتے اور اللہ کی ہدایت سے اس قدر بے رغبتی اور نفرت ان کے دلوں میں پائی جاتی ہے کہ وہ نفس امارہ اور شیطان لعین کو مومنوں سے بھی زیادہ ہدایت یافتہ سمجھتے ہیں آپ کو اپنی زندگی میں بھی اس قسم کے بہت سارے نظارے نظر آ جائیں گے۔اسی طرح فرمایا:۔وَهُذَا ذِكْرٌ مُّبَرَكَ اَنْزَلْنَهُ أَفَانْتُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ (الانبياء : ۵۱) امِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِةٍ أَلِهَةً قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ ۚ هَذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ وَذِكْرُ ނ مَنْ قَبْلِي بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُونَ (الانبياء : ۲۵) فرمایا کہ یہ قرآن مجید عزت اور شرف کا جامع ہے ذِکر تُبرَ اللہ کی نگاہ میں جو شرف اور رضا پہلی اقوام علیحدہ علیحدہ پاتی تھیں اس کی اتباع سے وہ سب عزتیں مل جائیں گی بلکہ ان - بھی بڑھ کر۔کیا تم اے ہمارے مخاطب ایسی عظیم کتاب کا انکار کرتے ہو اور پہلوں کو جو بھی عزت اور عظمت ملا کرتی تھی وہ بھی اس قرآن عظیم کے بعض حصوں کی اتباع کے نتیجہ میں ملتی تھی اور جو میری تربیت میں آکر ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ اعلان ہے ) اس کی پیروی کریں گے انہیں سب عزتوں کے سرچشمہ سے ( اِنَّ الْعِزَّةَ لِلهِ جَمِيعًا (یونس :۶۶) وہ ساری ہی عزتیں نصیب ہوں گی جو ایک انسان اپنے اپنے دائرہ استعداد میں حاصل کر سکتا ہے مگر ان میں سے اکثر اس تعلیم کو پہچانتے نہیں جو انسان کی ہر فطری پیاس کو سیراب کرنے والی اور فطرت انسانی کے سب قوی کو اپنے اپنے دائرہ استعداد میں کمال نشو و نما دینے والی ہے (الحق) اور اس لئے اس منبع عزت و شرف سے منہ موڑ کر باطل اور بے حقیقت چیزوں کی طرف وہ بڑھ رہے ہیں اس لئے کہ وہ پہچانتے نہیں۔غرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات میں بنی نوع انسان سے کہا کہ حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے اسی طرح دوسرے انبیاء پیدا ہوئے اور تمہیں نظر آ رہا ہے کہ انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں عزت پائی اور ان کے ماننے والوں نے بھی۔اب تمہیں یہ بشارت ہو کہ تمہیں بھی وہ ساری عزتیں ملتی رہیں گی اور ان کے حصول کے دروازے بند نہیں ہوئے بلکہ ان سے کہیں بڑھ کر عزتیں تم اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں حاصل کر سکتے ہو