خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 414 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 414

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۱۴ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب غرض حضرت ہارون علیہ السلام پر ان کی اپنی قوم نے یہ الزام لگایا کہ وہ کچھڑا پرستی کے شرک میں ملوث ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان سے یہ کہلوایا کہ تمہارا خدا رحمان ہے تم اس کی پرستش کرو اور میری اتباع کرو تا کہ میں تمہیں شرک سے نجات دلا کر خدائے رحمان کے قدموں پر لا ڈالوں۔حضرت داؤد علیہ السلام پر یہ اتہام لگا کہ وہ اور یاہ کی بیوی بنت سبع پر عاشق ہوئے۔اس سے زنا کیا جس سے وہ حاملہ ہوئی۔آپ نے اس حمل کو چھپانے کی بہت کوشش کی جس میں وہ ناکام رہے۔اس ناکامی کے بعد ذلت کے خوف سے آپ نے اس کے خاوند کو مروانے کی سکیم بنائی اور اسے مروا دیا اور پھر اس حاملہ عورت سے خود شادی کر لی۔غرض ایک بڑا تفصیلی اتہام حضرت داؤدعلیہ السلام پر لگایا گیا ہے لے لیکن قرآن کریم نے دنیا کو کہا کہ جھوٹا ہے وہ انسان جو میرے بندہ پر یہ الزام لگاتا ہے۔إِنَّةَ أَوَّابٌ (مت: ۱۸) وہ تو ہر وقت میری طرف رہتا تھا شیطان کی طرف تو وہ کبھی ایک لحظہ کے لئے بھی نہیں جھکا پھر اس قسم کی بدکاری کا وہ مرتکب کیسے ہو سکتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے دنیا کو کہا کہ تم داؤد علیہ السلام کو ایک عام انسان کا شرف دینے کے لئے بھی تیار نہیں حالانکہ وہ تو انسانوں میں سے بھی بڑی شرف اور فضیلت والا انسان تھا۔وَلَقَدْ أَتَيْنَا دَاوُدَ مِنَّا فَضْلًا ( سبا : ١) ہم نے اسے انتہائی فضلوں سے جو اس زمانہ میں زیادہ سے زیادہ اس قوم کے کسی فرد پر ہو سکتے تھے نوازا تھا۔پھر اسے ان فیوض کا حامل اور ان فیوض کا آگے افاضہ کرنے والا بنایا تھا یعنی وہ نبی تھا وہ ہم سے برکتیں لیتا اور پھر وہ برکتیں اپنی قوم کو جا کر پہنچاتا تھا اور تم اس پر اس قسم کا گندا الزام لگا ر ہے ہو۔حضرت عیسی علیہ السلام پر تو تہمت پر تہمت لگی اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بندہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم بار بار آیا اور اس نے آپ کی برات کا اعلان کیا۔حضرت عیسی علیہ السلام پر جو تہمت لگی اس کے آگے بھیانک نتائج بھی تہمت لگانے والوں نے گنائے ہوئے ہیں اور وہ تہمت یہ تھی کہ آپ بد کار اور زنا کار عورتوں کی اولاد تھے اور اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ جو بد کار اور زنا کار عورتوں کی اولا د ہو وہ لعنتی ہوتا ہے اور خدا سے دھتکارا ہوا ہوتا ہے وغیرہ۔قرآن کریم میں آپ کی بریت ان الفاظ میں کی گئی ہے۔پیدائش باب ۱۱ آیت ۱ تا ۲۲۷ متی باب ۲ آیت ۶