خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 31 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 31

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۱ ۲۰ دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطاب اس مسبب الاسباب ہستی پر ہے جس نے تمام سامانوں کو پیدا کیا ہے جس کے ہاتھ میں زمین اور آسمان ہیں اور جس کے گن کہنے سے دنیا تباہ بھی ہو سکتی ہے اور دنیا قائم بھی ہو جاتی ہے۔شکر کی ادائیگی کا تیسرا طریق جو اسلام نے ہمیں بتایا ہے یہ ہے کہ ہم اپنے محسنوں کا شکر بھی ادا کریں ہمارے محبوب آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔مَنْ لَّمْ يَشْكُر النَّاسَ لَمْ يَشْكر الله (ترمذى كتاب البر والصلة) کہ جو شخص بندوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کا شکر کیسے ادا کر سکتا ہے اگر انسان ایک چھوٹے سے احسان کا شکر ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا تو جس ہستی کے احسانوں کے نیچے وہ دبا ہوا ہے اس کا شکریہ کیسے ادا کرے گا اس لئے ہر وہ فرد ہر وہ قوم اور ہر وہ ملک جس نے اس آڑے وقت میں پاکستان کی مدد کی ہمارے شکریہ کا مستحق ہے اور ہم اس کے شکر گزار ہیں ہم ان سے کبھی بے وفائی نہیں کریں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اگر ہم خدا تعالیٰ کے بندوں اور اس کی پیدا کردہ اقوام کا شکر ادا کریں تو اللہ تعالیٰ لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابرهيم :(۸) کے وعدہ کے مطابق اپنے فضلوں کو ہم پر اور بھی زیادہ موسلا دھار بارش کی طرح برسائے گا اور خدا تعالی کی قدرتوں اور طاقتوں کے جلوے ہم پہلے کی نسبت زیادہ دیکھیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا کرے کہ ہم اس کے شکر گزار بندے بنیں اور وہ ہمیں اپنے فضل کے ساتھ اس مقام پر کھڑا رکھے کہ ہم سوائے اس کے کسی اور پر بھروسہ رکھنے والے نہ ہوں اور دنیا کی کسی طاقت سے مرعوب نہ ہوں۔خدا تعالیٰ کی طاقتوں کا جلوہ کچھ اس طرح ہم پر ظاہر ہو کہ دنیا کی ہر طاقت کو بیچ کر کے رکھ دے اے خدا تو ہمیں اپنے شکر گزار بندے بنا آمین ثم آمین۔از رجسٹر خطابات ناصر غیر مطبوعہ )