خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 30 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 30

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۰ ۲۰ دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطاب احمدیوں کو پاکستان کی فتح کے لئے سینکڑوں بلکہ شاید ہزاروں بشارتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ملیں۔بڑی کثرت کے ساتھ ہمارے دوستوں کو خوا ہیں آئیں کشف ہوئے اور الہام بھی ہوئے کہ اللہ تعالیٰ اس لڑائی میں جو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہو رہی ہے پاکستان کو فتح عطا کرے گا اور آسمان پر یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ فرشتے پاکستانیوں کی مدد کو پہنچیں۔غرض پاکستان کی فتح کے متعلق بہت سے احمدیوں نے واضح کشوف اور رویا دیکھے دوسرے ( غیر از جماعت) مسلمانوں کو بھی رویا ہوئے ہوں گے لیکن ہمیں ان کا علم نہیں ہمیں تو انہی کشوف اور رویا کا علم ہے جو ہمارے احمدی دوستوں کو ہوئے اور یہ بشارتیں اتنی کثرت سے دی گئیں کہ میں سمجھتا ہوں۔اگر ہم فی الواقع خدا تعالیٰ پر ایمان لانے والے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنے والے ہیں تو چاہئے کہ قیامت تک ہم اور ہماری آئندہ نسلیں خدا تعالیٰ کے اس فضل اور احسان پر شکر یہ ادا کرتی رہیں اگر ہم ایسا کریں تب بھی ہم اس کا کماحقہ شکر ادا نہیں کر سکتے۔جماعت احمد اور پوری پاکستانی قوم کو ان غیر معمولی افضال پر جو ان پر نازل ہوئے ہیں صحیح معنوں میں خدا تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اب میں مختصر یہ بتاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں شکر گزار بندے بنے کا جو طریق سکھایا ہے وہ کیا ہے؟ یا د رکھنا چاہئے کہ تین چیزیں ہیں جو افضال الہیہ کی وجہ سے ایک شکر گزار بندہ بجالاتا ہے ان میں سے سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ اور تو کل رکھتا ہے اور اس کے سوا کسی اور کی طرف نہیں جھکتا اور نہ ہی کسی دوسرے کو اپنی توجہ اور امید کا مرکز بنا تا ہے اللہ تعالیٰ پر کامل تو کل کی دوصورتیں اسلام نے ہمیں سکھائی ہیں اول یہ کہ ماڈی طاقتیں اور ان کے ماڈی اسباب اور وسائل خواہ کتنے ہی زیادہ عظیم کیوں نہ ہوں ہم ان سے مرغوب نہ ہوں اور اس یقین پر قائم رہیں کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں دنیا کے ملکوں اور قوموں کی طاقتیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں وہ اتنی حیثیت بھی رکھتیں جتنی کہ میرے پاؤں کے نیچے آنے والی مٹی کا ایک ذرہ رکھتا ہے۔شکر کی ادائیگی کا دوسرا طریق اسلام نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ ہمارے پاس مادی اسباب اور وسائل خواہ کتنے کم ہی کیوں نہ ہوں اور ہمیں اپنی کمزوریاں خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ نظر آ رہی ہوں۔ہم کبھی مایوس نہ ہوں۔کیونکہ ہمارا بھروسہ اپنی طاقت ، اپنی تعداد یا اپنے اسباب پر نہیں بلکہ