خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 408
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۰۸ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب اور پہلی شریعتوں کے متبع بھی خیر محض اور خیر کامل کے تبھی وارث ہوسکیں گے جب وہ اس کامل حقیقت اور مکمل ہدایت پر ایمان لائیں گے اور اس پر عمل کریں گے فرمایا وَلَوْا مَنَ أَهْلُ الْكِتُبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ (ال عمران : ) کہ ان کی اپنی شریعت کی اتباع میں ان کے لئے کامل خیر کے سامان نہیں ہیں اس لئے اب ان کو چاہئے کہ وہ قرآن کریم پر ایمان لائیں تا کہ مسلمانوں عربوں اور دوسرے مومنوں کی طرح وہ بھی اللہ تعالیٰ کی کامل خیر کے وارث بنیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہی الفاظ میں یہ کچھ تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ میں یہ کہوں گا کہ یہ قو تیں اور استعداد میں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہیں اور وہ اپنے کمال نشو ونما کو اب حاصل کر سکتا ہے۔امتیں جو اس قوت اور استعداد کو رکھنے والی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کی برکت اور قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اور آپ کی روحانی تربیت کے فیض سے وہ مقام حاصل کریں گی جو اپنی کمیت اور کیفیت اور صورت اور حالت میں تمام پہلے انبیاء کے روحانی فرزندوں کے مقام رفعت کے مقابلہ میں اکمل اور اتم اور ارفع اور اعلیٰ ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود میں یہ مژدہ تمام بنی نوع انسان کو بلا امتیاز قومیت اور رنگ اور نسل کے سنایا اور یہ عجیب مژدہ ہے مثلاً ایک ہندو کو کہا کہ تمہارے لئے یہ موقع ہے کہ تم بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متبعین سے آگے نکل جاؤ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں کو کہا کہ تم حضرت عیسی علیہ السلام کے ماننے والوں سے آگے نکل سکتے ہو۔تم قرآن کریم پر ایمان لے آؤ اور اس پر عمل کرو یعنی دنیا میں بعض نقطہ ہائے نگاہ سے بعض قوموں کی نگاہ میں بعض دوسری قومیں ارفع اور اعلی ہوتی ہیں مثلاً اس وقت عیسائیت کا بڑا زور ہے اور بعض اور ایسی سوسائیٹیاں ہیں جن کا مثلاً اخلاقی لحاظ سے یا خیرات کے کام کرنے کے لحاظ سے ایک اثر ہوتا ہے تو ہر دوسرے کو کہا کہ جو بھی تمہاری نگاہ میں بڑا ہے تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس سے زیادہ بڑے بن سکتے ہو۔تم قرآن کریم پر ایمان لاؤ اور اس پر عمل کرو اور کسی فرق اور کسی امتیاز کو یہاں مدنظر نہیں رکھا بلکہ ہر قوم کو وہ کالی ہو یا سفید۔سرخ ہو یا زرد، دنیوی لحاظ سے رفعتوں تک پہنچی ہوئی ہو یا دنیوی لحاظ سے تنزل کے گڑھوں میں پڑی سڑ رہی ہو۔سب کو آواز دے کر کہا کہ اگر تم ترقی