خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 407
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۰۷ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب بینات کے ساتھ یقین کی رفعتوں تک پہنچاتی ہے اور اس کی یہ خوبی خدائے قیوم کی حفاظت میں ہے اور اس شکل میں کہ جس میں کہ قرآن کریم آیا وہ محفوظ ہے۔لوگ پوری حقیقت نہیں سمجھتے اور بعض دفعہ کہہ دیتے ہیں یا بعض دفعہ دوسروں کو ملزم قرار دینے کے لئے ہم بھی کہہ دیا کرتے ہیں کہ جو تمہاری شریعتیں ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کی حفاظت حاصل نہیں تھی۔ایک لحاظ سے تو یہ صحیح ہے لیکن اس لحاظ سے یہ بھی صحیح ہے کہ ان کو بھی اس معنی میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت حاصل تھی کہ ان کی ابدی صداقتوں کو قرآن کریم نے اپنے اندر لے لیا اور اس نے انہیں اپنے اندر محفوظ کر لیا۔چنانچہ جو ابدی صداقت حضرت آدم علیہ السلام کو دی گئی تھی یا جو ابدی صداقت حضرت نوح علیہ السلام کو دی گئی تھی یا جو ابدی صداقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کود گئی تھی یا جو ابدی صداقتیں دوسرے انبیاء کو دی گئی تھیں ان کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا اور قرآن کریم کو نازل کیا اور اس میں ان تمام ابدی صداقتوں کو اکٹھا کر کے محفوظ کر دیا۔تیسرے قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا کہ میں تمام انسانوں پر احسان کرنے والی کتاب ہوں اس لئے کہ پہلی صداقتوں کو جامعیت اور کمال کے لئے جن نئی صداقتوں کی ضرورت تھی میں ان کی بھی حامل ہوں یعنی صرف پہلی صداقتوں کو میں نے نہیں لیا جو بدی صداقتیں تھیں لیکن چونکہ پہلی کتب میں تمام ابدی صداقتیں بیان نہیں ہوئی تھیں اس لئے جو ابدی صداقتیں بیان ہونے سے اس وجہ سے رہ گئی تھیں کہ پہلے زمانہ کا انسان ان کا حامل نہیں ہوسکتا تھا یا اس کو ان کی ضرورت نہیں تھی اور اب انسان اپنے آخری کمال کو حاصل کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔اس لئے میں نے وہ تمام صداقتیں جو پہلوں کو دی گئی تھیں وہ بھی اور وہ تمام ابدی صداقتیں جن کی انسان کو قیامت تک کے لئے ضرورت پیش آتی رہے گی ان سب کو اپنے اندر محفوظ کر لیا ہے اور جمع کر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورہ نساء میں فرمایا قدْ جَاءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَامِنُوا خَيْرًا لَّكُمُ (النساء : ۱۷۱) یہ کامل رسول اور خاتم النبیین کامل صداقت لے کر تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس آچکا ہے اس پر سچے دل سے ایمان لانا وہ تمہاری تمام قوتوں اور استعدادوں کو کامل نشو و نما تک پہنچاد۔گا اس سے تم ہر قسم کی بھلائی کے وارث ہو گے اور ایسی امت بن جاؤ گے جن پر یہ صادق آئے گا کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران : 1)