خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 406 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 406

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۰۶ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب فلاں آیت نکالو۔فلاں حوالہ دیکھو۔میرا خیال تھا کہ میں ان باتوں کو تمہیں تک لے جاؤں گا۔پھر مجھے خیال آیا کہ میں باتیں تو بہر حال ختم نہیں ہو سکتیں اس لئے میں نے ان باتوں کو سترہ اٹھارہ پر چھوڑ دیا۔لیکن اب مجھے خیال آتا ہے کہ اٹھارہ باتیں بھی ختم نہیں ہو سکتیں لیکن ختم کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کی وسعت اور بلندی اور گہرائی تو اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلووں کے پیرال (Parallel) ہے۔اس کے لحاظ سے اس مضمون نے کہاں ختم ہونا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے زندگی دی اور توفیق دی تو آئندہ سال اس مضمون کو بیان کیا جا سکتا ہے یا دوران سال اس کو پھیلا کر ختم کیا جاسکتا ہے۔اس وقت میں مضمون کو شروع کر دوں گا۔بڑی عجیب طرح اللہ تعالیٰ نے یہ ثابت کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کتنا بلند مقام اور آپ کی کتنی عظیم شان ہے۔پہلی بات جو اس مثال میں بھی واضح تھی اور بڑی اہم اصولی ہے وہ یہی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا افاضۂ روحانی اور آپ کا افاضہ خیر پہلے آدمی سے لے کر آخری آدمی تک جس پر قیامت آئے گی تمام بنی نوع انسان کے لئے ہے۔قیامت کب آئے گی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے لیکن آپ کا فیض جاری ہے۔قیامت سے آخری مرنے والا آپ کے روحانی فیض سے تو حصہ نہیں لے رہا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہو گا لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ دنیوی زندگی اور اس کی جائز آسائشیں اور آرام جو حقیقی آرام ہیں یعنی جو شیطان کے کہنے پر انسان حاصل نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے قائم کر دہ حقوق کے ماتحت حاصل کرتا ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہی ملتی ہیں اور اس آخری انسان کو بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہی وہ ملیں گی۔قرآن کریم نے اپنی ابتداء ہی میں یعنی سورۃ فاتحہ میں الحد اللہ کہہ کر اور سورۃ البقرہ میں ذلك الكتب لَا رَيْبَ فِيهِ (البقرۃ:۳) کہہ کر یہ دعویٰ کیا ہے کہ انسان کی روحانی اور جسمانی اور معاشرتی اور اخلاقی اور اقتصادی اور سیاسی وغیرہ ضرورتوں کو پورا کرنے والی صرف یہی ایک کتاب ہے جو فطرت انسانی کے سب حقیقی تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔اس لئے کہ یہ اپنے ذاتی کمالات اور فضائل اور بے نظیر تعلیمات سے تمام شرائع سابقہ پر اثر انداز اور مستقبل کی تمام الجھنوں کو دور کرنے والی ہے۔ذلك الكتب ) پھر فرمایا کہ یہ پہلوں اور پچھلوں پر احسان کرنے والی کتاب ہے کیونکہ یہ انسان کو ہر قسم کے شیطانی وساوس ظن اور گمان کے بے آب و گیاہ ویرانوں سے اٹھا کر دلائل اور آیات