خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 380
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۸۰ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطا۔رہے دنیا جو مرضی ان سے سلوک چاہے کرتی رہے وہ تو ایک قدم نہیں رکیں گے۔وہ آگے بڑھیں گے اور صداقت احمدیت کو قبول کریں گے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی مجبوریوں کو دیکھ کر بہت سی اجازتیں بھی دی ہوتی ہیں۔ایک عراقی عرب جس بے چارے نے عراق میں رہ کر کبھی خط نہیں لکھا تھا اور نہ کسی کو پتہ تھا کہ وہ شخص احمدی ہے۔موتمر عالم اسلامی کے عراقی وفد کے ایک ممبر کی حیثیت میں وہ مدینہ گیا۔آخر پڑھا لکھا اور بڑا اثر و رسوخ والا آدمی تھا اسی لئے تو موتمر اسلامی کے وفد میں شامل تھا۔جب مدینہ گیا اپنے ملک سے باہر نکل گیا وہاں اسے جرات پیدا ہوئی مجھے خط لکھا کہ عراقی وفد کے ممبر کی حیثیت سے یہاں آیا ہوں میں احمدی ہوں دعا کے لئے اس کا بڑے پیار کا خط تھا اس کے خط سے مجھے بہت لطف آیا تو آپ کو علم ہو یا نہ ہو خدا تعالیٰ کے فرشتوں کو تو ان لوگوں کا علم ہے اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تو وہ ہمارے ہیں اور ایک انتہائی طور پر پیار کرنے والے بچے کی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹانگوں کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں اور آپ کی محبت اور آپ کے فیض اور آپ کی برکتوں سے وہ حصہ لے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان علاقوں پر بھی اپنی برکتیں نازل کر رہا ہے۔عکرہ میں تین نئے سکول کھولے گئے ہیں۔نائیجیریا میں ایک سیکنڈری سکول کے لئے عمارت حاصل کی گئی ہے جنوری سے انشاء اللہ سکول کھل جائے گا۔کینیا میں سکول کھولنے کے لئے حکومت کی طرف سے اجازت مل چکی ہے وہاں بھی انشاء اللہ جلد سکول کھل جائے گا۔افریقہ میں متعدد نئی مساجد کی تعمیر ہوئی ہے جن میں سے ایک بڑی مسجد نیچی مان قابل ذکر ہے۔جنوبی افریقہ میں ایک وسیع مشن ہاؤس کی تعمیر کا کام شروع ہونے والا ہے۔ابتدائی تیاری مکمل ہو چکی ہے گیمبیا میں مشن ہاؤس تعمیر ہو چکا ہے۔ایک اور مشن ہاؤس اور ڈسپنسری کے لئے زمین حاصل کر لی گئی ہے گئی ہے۔پچھلے سال وہاں ہمارا میڈیکل مشن بھی کھل چکا ہے جو بڑا اچھا کام کر رہا ہے بہت بڑی خدم انجام دے رہا ہے۔ماریشس میں بھی لوگوں کو جماعت کی طرف توجہ اور رغبت ہے وہاں ہماری جماعت بڑی مخلص ہے وہاں کے مبلغ بڑے فدائی ہیں اور انہوں نے جماعت کی صحیح قیادت کی ہے اللہ تعالیٰ انہیں بھی جزا دے اور ماریشس کی جماعت کو بھی جزا دے۔بڑی قربانی کرنے والی جماعت ہے یوں