خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 366
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ٣٦٦ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطا۔کہ کام کرنے والے بھی کوشش اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اور جماعت کو یہ توفیق دے کہ آئندہ سال سے پہلے یہ سوانح چھپ کر شائع ہو جائیں۔مختلف مسائل پر عملی اور تحقیقاتی تصانیف کے انعامی مقابلے کے لئے (۱۹۶۸ء) کے موصولہ مقالہ جات سینتیس تھے جن میں سے چار مقالے انعام کے مستحق قرار پائے اور ہر چہار مقالوں نے ایک ایک ہزار روپے انعام لیا یعنی فی مقالہ ایک ہزار روپیہ چنانچہ ایک جماعتی تقریب کے موقع پر یہ انعامات تقسیم ہوئے۔سال رواں میں بارہ موعودہ مقالوں میں سے چار موصول ہوئے ہیں باقی شاید اس رپورٹ کے بعد آگئے ہوں گے۔لیکن سینتیس سے تعداد گر کر بارہ پر آ جانا یہ تشویشناک ہے جماعت کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔فضل عمر فاؤنڈیشن نے جماعت کو ایک ایسی لائبریری کی عمارت کی جو بڑی خوبصورت بڑی فراخ اور وسیع اور زیادہ کتب اپنے سینے میں لیٹنے والی ہوگی پیشکش کی ہے اس کا نقشہ تیار ہو گیا ہے اور امید ہے انشاء اللہ سات جنوری سے اس پر کام شروع ہو جائے گا۔دوست دعا کریں کہ انجینئر صاحب ایسے مل جائیں جو کام کو لٹکانے والے نہ ہوں۔جس طرح ہماری مسجد اقصٰی ) کا کام انجینئر صاحب نے لٹکا دیا ہے۔پچھلے جلسہ سالانہ سے پہلے مجھ سے وعدہ کیا گیا تھا کہ جلسہ کے موقع سے یہاں نماز شروع ہو جائے گی یعنی اس وقت تک تیار ہو جائے گی۔اس پر سال گذ چکا ہے ابھی تک یہ تیار نہیں ہوئی۔آپ کی قربانی کے لحاظ سے اور فضل عمر فاؤنڈیشن کے کاموں کے لحاظ سے اور اس کے منصوبوں کے لحاظ سے ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو مختلف پہلوؤں اور جہات سے اپنے اوپر نازل ہوتا دیکھ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان کا اہل بنائے اور ہمیں توفیق دے کہ ماضی میں جو اس کے فضل ہم پر ہوئے ہم ان کا شکریہ ادا کرنے والے ہوں اور ان فضلوں کے نتیجہ میں جو اور ان فضلوں کے نتیجہ میں جو حسنات ہمیں ملیں ان حسنات کا بھی شکر کرنے والے ہوں اور اس کا نتیجہ یہ نکلے کہ آئندہ مستقبل میں ہمیں اللہ تعالیٰ پہلے سے زیادہ اس کے حضور کچھ پیش کرنے کی توفیق عطا کرے اور اس پیشکش کو قبول کرنے کی توفیق عطا کرے اور اس پیشکش کو قبول فرمائے اور پہلے سے زیادہ ہمیں ان کے حسنات ملیں اور پہلے سے زیادہ ہم بلندیوں تک پہنچنے والے ہوں اور ہم اور زیادہ روحانی رفعتیں پانے والے