خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 364
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۶۴ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ ء۔دوسرے روز کا خطار مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وہاں لکھا ہے کہ میں اپنے موعود فرزند نشان الہی کی قدر کرنا باقی دوسروں کی قدر سے بھی زیادہ فرض سمجھتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو اللہ تعالیٰ نے بتایا آپ کی روحانی آنکھ نے وہ دیکھا چنانچہ آپ کا دل اس نظارہ کی وجہ سے اس فرزند موعود کی قدر کرنا فرض سمجھنے لگا۔جماعت احمدیہ نے اپنی ان جسمانی آنکھوں سے وہ دیکھا کہ جماعت کے ہر فرد کا دل اس موعود فرزند کی قدر کرنا اپنا فرض سمجھنے لگا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا اور آپ کی محبت نے یہ عملی ثبوت دیا کہ ہم نے ڈرتے ڈرتے اعلان کیا کہ پچپیس لاکھ تک جمع ہو جائے تو خدا کے بڑے مشکور ہوں گے اللہ تعالیٰ آپ کو بہت ہی نعمتوں کا وارث کرے گا۔لیکن جماعت نے کہا پچیس لاکھ نہیں ہم بتیس لاکھ سے بھی زیادہ دیں گے۔ابھی وہ اور بھی زیادہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔یعنی پچیس لاکھ ایک ایسی حد تھی کہ ہم ڈرتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ پوری نہ ہو اور ہمیں ایک قسم کی خفت اٹھانی پڑے کہ جماعت کو اتنی بھی محبت نہیں کہ ایک اعلان کیا اور اسے بھی پورا نہیں کیا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ مجھے ہمیشہ ڈرلگتا تھا اور میں دعائیں بھی کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ فضل کرے لیکن جماعت نے کہا اس قسم کا ظن ہم پر درست نہیں۔ہم نے حسن و احسان میں مسیح موعود کے اس نظیر کے جلوے دیکھے ہیں ہم اس کے شکرانہ کے طور کے جتنا تم چاہتے اور امید رکھتے ہو اس سے بڑھ کر دیں گے۔چنانچہ جماعت نے ۴۲۸۰۳, ۳۲ روپے آخری خبر کے آنے تک اس فنڈ میں دیئے۔ابھی کچھ اور وعدے آ رہے ہیں کیونکہ بعض جگہوں کو مزید مہلت دی گئی ہے۔بیرونی علاقوں میں بعض جگہ اور مہلت دینے کی ضرورت پڑی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ رقم بہر حال بڑھ جائے گی۔یہ تو تھا نا کہ جہاں شیطان رخنہ اندازی کردیتا ہے کہ جی یہ ہم نے دیا یہ میں نے دیا، یہ جماعت نے دیا۔نہ میں نے دیا نہ تم نے دیا اللہ نے دیا۔اللہ تعالیٰ اگر دل میں یہ خیال نہ ڈالتا۔یہ محبت نہ ڈالتا تو آکر کون دیتا پیار ظاہر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی شان ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے نظارے دکھاتا ہے۔ساڑھے بتیس لاکھ کے قریب جماعت نے دیا اور اس عرصہ میں جو انوسٹمنٹ (Investment) کی گئی اس پر قریباً اڑھائی لاکھ روپے آمد ہوئی اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بارہواں حصہ یعنی جتنا لوگوں نے دیا اس کا آٹھ فیصد اللہ تعالیٰ نے دے دیا۔حالانکہ یہ