خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 341
۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۴۱ میں سمجھ لیں ہے یہ فقرہ ! کہ (کھانے کا اثر ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انسان بہترین اخلاق کا نمونہ بن جائیں اور بن سکیں اور پھر اخلاق سکھانے کا بہترین انتظام کیا۔اور بنی نوع انسان کو درجہ بدرجہ ارتقاء کے مدارج طے کروانے کے لئے حضرت آدم علیہ السلام سے دنیا کہتی ہے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کا ایک سلسلہ جاری کیا اور اس زمانہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ہے شریعت کو قرآن کریم کا ایک حصہ دیا اور پورا قرآن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا۔یہ اس لئے تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم بہترین اخلاق کا مظاہرہ کرنے کے قابل ہو جائے۔جو شریعت دی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کامل اخلاق کا نمونہ اس شریعت کے مطابق بن سکیں۔استعداد دی کہ دل میں خواہش ہے لیکن حضرت مسیح کی طرح یہ نہ کہا جائے کہ میرا جسم روح کا ساتھ نہیں دیتا تو جسم بھی روح کا ساتھ دینے والا دیا۔روح بھی جسم کا ساتھ دینے والا بنایا اور ان کامل استعدادوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال کے آخری نقطہ تک پہنچایا اور موجودات کا مرکزی نقطہ بن گئے۔اور یہ حقیقت محمد یہ ہے جس کو سمجھ کر ہم علی وجہ البصیرت ایسے مقام پر کھڑے ہوں کہ دنیا میں یہ اعلان کر سکتے ہیں کہ پہلوں نے بھی اور بعد میں آنے والوں نے بھی جو مرتبہ حاصل کیا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل کیا۔یہ جو دوسرا حصہ تھا اس کی ابتداء میں نے آپ دوستوں کے سامنے بیان کر دی ہے تا کہ قلق باقی نہ رہے لیکن یہ ابتداء ہے اس کی جو تفصیل ہے اگر میں اس میں گیا تو ممکن ہے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ اور لگ جائے کیونکہ جتنے نوٹ میں نے پہلے استعمال کئے ہیں اس سے زیادہ نوٹ ابھی موجود ہیں بڑا لمبا عرصہ لگ جائے گا لیکن کیوں ہم یہ کہتے ہیں کہ محد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل حضرت آدم علیہ السلام نے برکت حاصل کی اور آپ کے طفیل حضرت نوح علیہ السلام نے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تمام انبیاء نے برکت حاصل کی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے عالم قضاء وقدر میں جو مقد رتھا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی اور جو اس عالم موجودات میں ہوا وہ اس عالم قضاء وقدر کے عکس کے طور پر ہے۔وہ اس لئے ہوا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت اور آپ کی شان دنیا پر ظاہر ہو۔پس حقیقت محمد یہ ہی کے طفیل حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ کا قرب اور رب العالمین کی -