خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 342
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۴۲ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب برکات حاصل کیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ کا قرب اور اللہ کی برکات حاصل کیں اور جس طرح معراجی سیر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم۔اپنے پہلوں میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے سب سے زیادہ قریب پایا یعنی ساتویں آسمان پر اور خود عرش پر آپ کا مقام تھا۔اسی طرح آپ کے قول کے مطابق حضرت مسیح موعود و مہدی معہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تر ہیں بعد کے زمانہ میں اور ان کا مقام بھی ساتویں آسمان پر ہے اس کی تفصیل اللہ تعالیٰ نے توفیق اور زندگی دی تو میں انشاء اللہ تعالیٰ اگلے سال بیان کروں گا۔جو ایک نقطہ حقیقت محمدیہ کا تھا اس حد تک ہی سمجھتا ہوں کہ میں نے بیان کر دیا ہے کہ آر کی پیاس ایک حد تک سیراب ہو جائے اور تشنگی پوری کی پوری باقی نہ رہے۔یعنی وجہ ہمیں معلوم ہونی چاہئے نا اور نہ تو عیسائی ہمیں یہ کہے گا کہ خواہ مخواہ کے تم دعوے کر رہے ہو لیکن اگر ہم عالم قضاء وقدر کی حقیقت کو سمجھنے لگیں تو اس کے لئے دماغ پر بڑا زور ڈالیں۔سارا سال ہی سوچیں۔عالم قضاء وقدر کی حقیقت سمجھنے لگیں اور عالم موجودات کا عالم قضاء وقدر کے ساتھ جو رشتہ ہے وہ ہماری سمجھ میں آ جائے تو تب حقیقت محمدیہ ہم پوری طرح سمجھ سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ اور معرفت اور عرفان عطا کرے اور خدا کرے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جو شان اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہے ہم جو اس کے عاجز بندے ہیں ہمارے دلوں میں بھی شان قائم ہو اور اس کے نتیجہ میں ہمارے دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مگن رہیں اور اپنی دنیا کی کوئی ہوش ہمیں باقی نہ رہے اور اس طرح ہم دنیا کی فکروں سے بھی آزاد ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے بھی وارث بن جائیں۔اب میں دعا کراؤں گا اور اس کے بعد اس سال کے جلسہ کی کارروائی ختم ہو جائے گی اپنی دعاؤں میں جو عظیم مہم غلبہ اسلام اور قیام تو حید کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے چلائی گئی ہے اس کے جلد تر کامیاب ہونے کی دعا بھی کریں اور ان لوگوں کو بھی اپنی دعا میں یاد رکھیں جو اپنی ہر عاجزی اور بے مائیگی کے باوجود ہر قسم کی مشکلات کے ہوتے ہوئے بھی اکناف عالم میں قربانیاں پیش کر رہے ہیں اور ہماری طرف سے فرض کفایہ کے طور پر تبلیغ اور اشاعت اسلام میں لگے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کا بھی حافظ و ناصر ہو ان کی زبان میں اور ان کے کام میں برکت ڈالے اور انہیں دنیا کے لئے ایک نیک نمونہ