خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 297
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۹۷ ۲۷ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب شکر گزار بندہ بنا چاہئے۔ان تک یہ بات جانی چاہئے اور یہ زیادہ تر الفضل میں ہوتا ہے اور اس کے علاوہ دوسرے رسالوں میں بھی ہوتا ہے۔اسی طرح دوسری کتابیں جو شائع ہوئی ہیں وہ ان دوستوں کو خریدنی چاہئیں مثلاً میر داؤ د احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے جو اقتباسات شائع کئے ہیں وہ بڑی اچھی کتاب ہے۔میرے تو وہ ہر وقت سرہانے رکھی رہتی ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ساری کتب تو آپ اپنے سرہانے نہیں رکھ سکتے اور ہماری تو زندگی ان میں ہے کیونکہ ہماری زندگی قرآن کریم میں ہے اور قرآن کریم کی صحیح تفسیر ان کتابوں میں ہے اور وہ موجودہ حالات اور موجودہ زمانہ کے تقاضے پوری کر رہی ہیں۔ایک دوسری صورت جو ممکن ہے یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے اقتباسات ہمارے قریب رہیں ، ہمارے سینہ کے ساتھ وہ لگے رہیں۔ہمارے دماغ کے ساتھ مقامی قرب بھی ان کو حاصل ہوتا کہ روحانی قرب حاصل ہو سکے اور جب تک آپ کے پاس یہ چیز نہیں ہوگی آپ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔اس طرح اور بہت سی مفید کتابیں ہیں وہ آپ خریدیں۔جماعتیں اپنی اپنی جگہ کوشش کریں میں نے لائبریریاں بنانے کے لئے تحریک کی ہے۔ہمارے مبلغ جو باہر کام کر رہے ہیں ( میں کل کی دعا میں بھی تحریک کروں گا ) وہ مادی اور دنیوی لحاظ سے نہایت نامساعد حالات میں کام کر رہے ہیں۔ނ ان کے وجود اور ان کی ان علاقوں میں زندگی اور ان کی کوششوں اور ان کے نتائج۔خدائے واحد و یگانہ کے وجود پر ایک بڑی بھاری دلیل قائم ہو رہی ہے اور وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ہم ان کے لئے دعائیں کریں۔آپ انہیں ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یادرکھیں۔اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں میں بہت ہی برکت ڈالے اور ہماری اس خواہش کو جلد پورا کرے کہ تمام دنیا میں اسلام پھیل جائے۔اسی طرح جو بیمار ہیں ان کے لئے بھی دعا کریں۔بیمار کی عیادت مسلمان پر ایک فریضہ ہے لیکن ہر آدمی ہر بیمار کی عیادت نہیں کر سکتا۔ہاں ہر مسلمان مفت میں گھر بیٹھے ہر بیمار کی عیادت کا ثواب حاصل کر سکتا ہے اور وہ اس طرح کہ وہ ہر بیمار کے لئے دعا کرے۔جب وہ دعا کرے گا تو اس کو عیادت کا ثواب مل جائے گا۔