خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 286
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۸۶ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطا۔کلوز (close) کر دیا جائے گا۔اس واسطے اس چھ ماہ کے اندر اندر اپنے وعدوں کو پورا کر دو اور سوائے اس کے کہ کوئی شاذ استثنا ہو اس مدت کو بڑھایا نہیں جائے گا مثلاً ایک شخص ہے اس نے سوچا ہے کہ میری فصلوں سے مئی کے مہینہ میں آمد ہو جائے گی یعنی ربیع کی فصل سے میں یہ وعدہ ادا کر دوں گا یعنی اس کا جو حصہ اس نے باقی رکھا ہے وہ ادا ہو جائے گا لیکن کسی وجہ سے اس کی فصل بک نہیں سکی یا کوئی اور وجہ ہوگئی اور وہ وعدہ ادا نہیں کر سکا تو اس صورت میں اسے ایک مہینہ ! مہینہ کی مہلت دی جاسکتی ہے لیکن حساب یا کھا نہ بند سمجھا جائے گا۔استثناء کھانہ کو کھولا نہیں کرتے بلکہ وہ تو اس کے بند ہونے کی دلیل ہوتے ہیں۔پس فضل عمر فاؤنڈیشن کے وعدوں اور وصولی کے کھاتے تین سال کے بعد بند ہو جائیں گے۔اس لئے جنہوں نے ادائیگیاں کرنی ہیں اس وعدہ کے مطابق جو انہوں نے خدا سے کیا یا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی محبت میں کیا۔وہ ان کی ادائیگی (یا اس حصہ کی ادائیگی جو باقی ہے) ان چھ ماہ کے اندر کر دیں۔یا درکھیں کہ ہر احمدی کے دل میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بڑی محبت ہے۔جماعت کے ہر فرد واحد پر آپ کے بڑے احسان ہیں۔ہم نے اللہ تعالیٰ کی زندہ قدرتوں کے نمونے آپ کی ذات میں اور صفات میں دیکھے ہیں اگر ہم میں سے کوئی ذراسی بھی غفلت برتے یا قدر میں کمی کرے تو خدا کے نزدیک وہ ناشکرا ہو جائے گا۔لیکن جو تحریک فضل عمر فاؤنڈیشن کے نام سے جاری کی گئی ہے وہ اپنے مقاصد کے لحاظ سے اضافی طور پر ایک محدود تحریک ہے یعنی جو مقاصد جماعت احمدیہ کے ہیں یا جو ضرورتیں ان مقاصد کے پیش نظر جماعت کی ہیں۔نہ تو اتنے وسیع مقاصد فضل عمر فاؤنڈیشن کے ہیں اور نہ اتنی اہم اور بڑی ضرورتیں فضل عمر فاؤنڈیشن کی ہے اور جماعت کی نئی سے نئی ضرورتیں ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں مثلاً ایک یہ ضرورت ہمارے سامنے پیش آئی ہے کہ جاپان میں تبلیغ پر خرچ کرنا ہے موجودہ حالت میں وہاں تبلیغ کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت بڑی اہم ہے اور اس پر جو خرچ ہو گا وہ بہت زیادہ ہے اس کے پورا کرنے کی تدبیر کرنی چاہیے۔غرض فضل عمر فاؤنڈیشن محدود مقاصد کے پیش نظر جاری کی گئی تھی اور ایک محدود رقم کی اس کے لئے ضرورت محسوس کی گئی تھی اور اس کے کھاتے وعدوں کے بھی اور وصولیوں کے بھی تین سال کے بعد بند کر دیئے جائیں گے سوائے استثنائی حالات کے جو شاذ کا حکم رکھتے ہیں۔اس لئے میں آپ کی