خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 267 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 267

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۶۷ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطا۔اب اگر غور سے دیکھا جاوے تو احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل میں فتح تھی اور یہ ایک حقیقت ہے محض ایک فلسفیانہ دعوی نہیں کیونکہ وہ لوگ جو اس جنگ میں شامل تھے یا وہ لوگ جو مدینہ مدنیہ قریب ہی تھا ) میں تھے ان کو جب اطلاع ملی تو ان کے دل میں یہی بات تھی کہ دشمن نا کام ہوا اور اسلام کا میاب ہوا ہے اور فتح اسی کو نصیب ہوئی ہے جیسا کہ ان دو واقعات سے پتہ لگتا ہے۔پہلا واقعہ۔جب مدینہ میں یہ اطلاع ملی کہ احد میں بعض مسلمانوں کی غلطی کی وجہ سے مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اس دن کا فروں کے مقابلہ میں نسبتاً زیادہ مسلمان شہید ہوئے تھے اور اسلام کی تاریخ میں ایسا بہت کم ہوا ہے لیکن احد کا دن اس لحاظ سے بھی بہت سخت تھا پھر یہ دن اس لحاظ سے بھی سخت تھا کہ ایک گروہ نے اپنی نادانی کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو ٹھکرا دیا انہوں نے اس کی پرواہ نہ کی گو اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کر دیا اور اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمتوں سے نوازے لیکن یہ امر جماعت مؤمنین کے لئے بڑی تکلیف کا باعث تھا۔پھر خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زخم آئے۔جب یہ خبر مدینہ میں پہنچی تو سخت گھبراہٹ کی حالت میں ایک انصاری عورت گھر سے نکل کر احد کے راستہ پر ہوئی۔وہ احد کے میدان کی طرف جارہی تھی کہ اس کو بعض ایسے صحابی ملے جواحد کے میدان سے واپس آرے تھے اور یہ وہ گروہ تھا جس میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے۔بعض صحابہ نے آگے بڑھ کر اس انصاری عورت کو یہ اطلاع دی کہ تمہارا باپ اور تمہارا بھائی اور تمہارا خاوند تینوں جنگ اُحد میں شہید ہو گئے ہیں۔جب اس عورت کو یہ اطلاع ملی تو چونکہ اس کی گھبراہٹ اور بے چینی اپنے باپ بھائی یا خاوند کے لئے نہیں تھی بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھی اس لئے اس نے کہا۔تم مجھے یہ بتاؤ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے۔جب صحابہ - اس سے یہ کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو خدا تعالیٰ کے فضل سے بخیریت ہیں اور یہ دیکھو آپ ہمارے ساتھ ہی تشریف لا رہے ہیں تب اس نے نظر اٹھائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا جب اس کی نظر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی تو اس نے کہا اگر آپ زندہ ہیں تو دنیا کی کوئی مصیبت مجھ سے عید کی خوشی چھین نہیں سکتی۔