خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 264
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۶۴ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اور آپ نے دنیا میں یہ اعلان کیا کہ میں خاتم النبیین کی حیثیت سے دنیا کی طرف مبعوث ہوا ہوں اس وقت جس عید کا وعدہ دیا گیا و اس آیت میں بیان ہوا ہے جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اپنے عہد بیعت باندھتے ہیں انہیں یہ بات یادر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی جانوں کو اور ان کے اموال کو اس عہد بیعت کے ذریعہ خرید لیا ہے اور اس وعدہ پر خریدا ہے کہ انہیں جنت ملے گی۔قرآن کریم سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس جنت کا وعدہ ہمیں اسلام دیتا ہے اس کا تعلق اس دنیا سے بھی ہے اور اخروی زندگی سے بھی ہے۔پس یہاں اس آیت میں یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ اس سودے کے نتیجہ میں جو تم نے اپنے رب سے کیا ہے تمہیں دنیوی جنت بھی ملے گی اور اخروی جنت بھی ملے گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ایک ایسا وعدہ ہے جو اس نے اپنے پر لازم کر لیا ہے اور اللہ سے زیادہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے والا اور کون ہے؟ انسان جو شریف الطبع ہوتا ہے وہ جو زبان سے کہتا ہے اگر اس کے امکان میں ہو تو وہ اسے پورا کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات تو سر چشمہ ہے تمام شرافتوں اور تمام عزتوں کا اور منبع ہے تمام قدرتوں کا۔اس لئے کوئی چیز انہونی نہیں اس کے لئے۔فرمایا کہ جو وعدہ خدا نے دیا ہے وہ ضرور پورا ہوگا اور اس وجہ سے اے مومنو ہم تمہیں ایک ابدی عید کی بشارت دیتے ہیں۔پس تم اپنے اس سودے پر خوش ہو جاؤ اور یہی وہ عید ہے جو انتہائی کامیابی اور سب سے بڑی عید ہے۔اس سے بڑھ کر کوئی عید تصور میں نہیں آسکتی۔عید کے معنی خوشی اور مسرت کے وقت کے ہیں جو بار بار آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں یہ فرمایا کہ یہ عید جو آج شروع ہوئی ہے۔یہ تم پر بار بار آئے گی تمہارے لئے ہر روز ہی روز عید ہوگا اور ہرلحہ تمہاری زندگی کا عید کالمحہ ہو گا تم غلطی کرو گے لیکن تم پر مایوس نہیں چھائے گی۔غلطی کرنے کے بعد اگر تم ندامت کے احساس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف لوٹو گے تو وہ تمہیں اس طرح گلے سے لگالے گا جس طرح عید کے موقع پر ایک مسلمان اپنے دوست کو گلے لگاتا ہے اور جب تم عبادت کی راہیں اختیار کرو گے عبودیت کا جامہ تم پہنو گے اور اللہ تعالیٰ کی صفات تمہارے وجود میں جلوہ گر ہوں گی تو چونکہ خدا اور اس کی صفات غیر محدود ہیں اس لئے جب اللہ تعالیٰ کی